خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 626 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 626

خطبات مسرور جلد 16 626 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2018 یعنی مجھے بھی اس دن شہادت عطا ہوتی۔اسی طرح جب حضرت سعد بن ابی وقاص غابہ جو کہ مدینہ کے شمال مغرب میں واقعہ ایک گاؤں ہے ، اپنی جائیدادوں پر جاتے تو شہدائے احد کی قبروں کی زیارت کرتے۔تین مرتبہ انہیں سلام کہتے۔پھر اپنے ساتھیوں کی طرف مڑتے اور انہیں کہتے کہ کیا تم ان لوگوں پر سلامتی نہیں بھیجو گے جو تمہارے سلام کا جواب دیں گے۔جو بھی انہیں سلام کہے گا یہ قیامت کے دن اس کے سلام کا جواب دیں گے۔ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مصعب بن عمیر کی قبر کے پاس سے گزرے تو وہاں رک کر دعا کی اور اس آیت کی تلاوت فرمائی کہ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ- فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مِّنْ يَنْتَظِرُ - وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا - (الاحزاب:24) کہ مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا اسے سچا کر دکھایا۔مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ۔پس ان میں سے وہ بھی ہیں جس نے اپنی منت کو پورا کر دیا اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو ا بھی انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے ہر گز اپنے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔پھر آپ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک شہید ہوں گے۔تم ان کے پاس آیا کرو۔ان کی زیارت کیا کرو اور ان پر سلامتی بھیجا کرو۔قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن تک جو بھی ان پر سلامتی بھیجے گا یہ اس کا جواب دیں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ یہاں آتے ان کے لئے دعا کرتے اور سلامتی بھیجا کرتے۔(كتاب المغازي ذكر من غزوة احد جلد اوّل صفحه 267 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2004ء) حضرت سہل بن قیس کی بہنیں حضرت سخطی اور حضرت عمرہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ کی بیعت سے فیضیاب ہوئیں۔الطبقات الكبرى جلد 8 صفحه 301 سخطى بنت قيس عمرة بنت قيس مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر اگلے صحابی ہیں حضرت عبد اللہ بن مثیر الاشجعی۔ان کا تعلق بنو ڈھکمان سے ہے جو کہ انصار کے حلیف تھے آپ نے غزوہ بدر میں اپنے بھائی حضرت خارجہ کے ہمراہ شرکت کی اور آپ غزوہ احد میں بھی شامل ہوئے۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 218 219 عبد الله بن حمير مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) ان کی زوجہ کا نام حضرت ام ثابت بنت حارثہ ہے جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں۔و (الاصابه جلد 8 صفحه 366 ام ثابت بنت حارثة دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) حضرت عبد اللہ بن حمیر ان چند اصحاب میں سے تھے جو غزوہ احد میں حضرت عبد اللہ بن جبیر کے ساتھ دڑے پر ڈٹے رہے۔جب باقی صحابہ فتح کا نظارہ دیکھنے کے بعد مسلمانوں کی باقی جماعت سے ملنے کے لئے نیچے جانے لگے تو حضرت عبد اللہ بن حمیر انہیں نصیحت کرنے کے لئے کھڑے ہوئے۔آپ نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور پھر اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے کی نصیحت کی لیکن انہوں نے آپ کی بات نہ مانی اور چلے گئے یہاں تک کہ حضرت عبد اللہ بن بجبیر کے ساتھ درے پر دس سے زیادہ صحابہ نہ بچے۔اتنے میں خالد بن ولید اور عکرمہ بن ابو جہل نے دڑہ خالی دیکھ کر جو اصحاب وہاں باقی رہ گئے تھے ان پر حملہ کر دیا۔اس قلیل جماعت نے ان پر