خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 625
خطبات مسرور جلد 16 625 52 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 28 / دسمبر 2018ء بمطابق 28 / فتح 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج جن بدری صحابہ کا میں ذکر کروں گا ان میں سے پہلا نام حضرت عبداللہ بن الربیع انصاری کا ہے۔حضرت عبد اللہ بن الربیع کا تعلق خزرج قبیلے کی شاخ بنو انجز سے تھا اور آپ کی والدہ کا نام فاطمہ بنت عمر و تھا۔آپ بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل تھے اور آپ کو غزوہ بدر اور احد اور جنگ موتہ میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔جنگ موتہ میں آپ نے شہادت کار تنبہ پایا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 407 عبد الله بن الربيع دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) ( تاريخ مدينة دمشق جلد 2 صفحه 11 باب سرایا رسول الله الا الله الى الشام وبعوثه الاوائل مطبوعه دار الفكر بيروت 1995ء) دوسرے صحابی ہیں حضرت عطیہ بن نویرۃ۔یہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے اور ان کے متعلق بس اتنی ہی معلومات ہیں کہ آپ غزوہ بدر میں شامل ہوئے۔(اسد الغابه جلد 4 صفحه 45 عطيه بن نویره مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) پھر حضرت سہل بن گئیں ہیں۔ان کی والدہ کا نام نائلہ بنت سلامہ تھا اور مشہور شاعر حضرت کعب بن مالک کے آپ چچازاد بھائی تھے۔سہل نے غزوہ بدر اور احد میں شرکت کی اور غزوہ احد میں جام شہادت نوش کیا۔( الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ 436 سہل بن قیس مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال شہدائے اُحد کی قبروں کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتے۔جب آپ اس گھائی میں داخل ہوتے تو بلند آواز سے فرماتے: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّار۔سورہ رعد کی آیت ہے۔وہاں اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کی بجائے سَلَامٌ عَلَيْكُمْ (الرعد: 25) سے شروع ہوتی ہے کہ سلام ہو تم پر بسبب اس کے جو تم نے صبر کیا۔السَّلَامُ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدار۔پس کیا ہی اچھا ہے، اس گھر کا انجام۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان نے بھی اسی روایت کو جاری رکھا۔پھر حضرت معاویہ بھی جب حج یا عمرہ کے لئے آتے تو شہدائے احد کی قبروں کی زیارت کے لئے جاتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ لَيْتَ أَنِّي غُوْدِرْتُ مَعَ أَصْحَابِ الْجَبَلِ۔کہ اے کاش! میں ان پہاڑ والوں کے ساتھ ہو جاتا