خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 623 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 623

خطبات مسرور جلد 16 623 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2018 نہ کوئی سخت لفظ نہ کوئی دل آزاری کا کلمہ یہ اگر کسی کو دفتر میں سختی کرتے دیکھتے تو اس رویے سے بیزاری کا اظہار کرتے۔محمد طلحہ صاحب جامعہ میں متخصصین کے شعبہ میں حدیث کے استاد ہیں۔کہتے ہیں دوران تخصص تقریباً ایک سال محترم مرزا انس احمد صاحب سے خاکسار اور مکرم سید فہد صاحب مربی سلسلہ کو حدیث پڑھنے کا موقع ملا۔دیگر ذمہ داریوں اور ناسازی طبیعت کے باوجود آپ کی ہر ممکن کوشش ہوا کرتی تھی کہ کوئی دن ایسانہ گزرے جس میں حدیث کی کلاس نہ ہو۔ایک مرتبہ طبیعت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے دفتر نہیں آسکے تو ہمیں تدریس کے لئے اپنے گھر بلا لیا۔آصف اولیس مربی سلسلہ وکالت اشاعت لکھتے ہیں کہ خاکسار کی تقرری چند ماہ پہلے وکالت اشاعت میں ہوئی۔یہ چند ماہ میری زندگی کے یادگار دن تھے۔ہر موقع پر نہایت شفقت سے میاں صاحب نے خیال رکھا۔میری اور ان کی عمر کا کم از کم پچپن سال سے زائد کا فرق تھا لیکن ان کے ساتھ ایسے محسوس ہو تا تھا کہ جیسے یہ فرق نام کا ہی گفتگو بھی شاندار ہوتی تھی۔محفل کو خوشگوار رکھنے کے لئے اکثر مذاق بھی کیا کرتے تھے۔یہ کہتے ہیں کہ ان کی ہے۔مترجم مسند احمد بن حنبل کا کام میرے سپر د ہے۔اس عمر اور صحت کی انتہائی خراب حالت میں بھی ان کی کام کو جاری رکھنے کی ہمت بلا کی تھی۔مایوسی یا کام مکمل نہ ہو سکنے کا خیال بھی پاس سے نہ گزرتا تھا۔جامعہ احمد یہ ربوہ کے طالب علم محمد کاشف کہتے ہیں کہ خاکسار مقالے کے سلسلہ میں جو کہ خلفائے احمدیت کے پرائیویٹ سیکر ٹریان کے حوالے سے تھا گزشتہ چند ماہ سے آپ کی خدمت میں کئی دفعہ حاضر ہوا۔الحمد للہ انہوں نے خاکسار کو نہایت پیار سے بہت قیمتی وقت دیا۔بیماری میں بھی تفصیلی انٹرویوز دئے۔ایک بار بڑی رقت آمیز آواز میں کہنے لگے کہ انسان کی کوشش اور محنت کچھ بھی نہیں ہوتی یہ میری زندگی کا خلاصہ ہے۔جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور پھر خلافت سے منسوب ہے۔ربوہ سے آصف احمد ظفر کہتے ہیں کہ وفات سے کچھ عرصہ قبل طاہر ہارٹ میں داخل تھے۔ان کی عیادت کے لئے میں گیا۔باوجو د شدید تکلیف کے اور اس وقت بھی چہرے پر ماسک لگا ہوا تھا۔یہ آکسیجن کا ہو گا۔جب میں نے اپنا تعارف کرایا تو خود اپنا ماسک اتارا اور گفتگو شروع کر دی۔اس پر میں نے صحت کے بارے میں کہا کہ میاں صاحب اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا انشاء اللہ۔تو وہ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کا بلا لینا بھی تو ایک فضل ہے۔کہتے ہیں ان کے الفاظ سن کر میں حیران رہ گیا کہ اس حالت میں بھی اللہ پر توکل ہے اور موت کی کوئی فکر نہیں۔مختلف لوگوں نے خلافت سے تعلق میں جو لکھا ہے اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ان کا تعلق تھا اور انہوں نے اپنے ہر عمل سے اور اپنے ہر نمونے سے اس تعلق کا اظہار کیا۔اور بلکہ جب خلیفہ المسیح الرابع نے مجھے امیر مقامی اور ناظر اعلیٰ مقرر کیا ہے تو اس وقت بھی خلافت کی اطاعت کی وجہ سے انہوں نے کامل اطاعت امیر کی بھی کی اور بڑا لحاظ رکھا باوجود اس کے کہ میں عمر میں ان سے کم از کم تیرہ چودہ سال چھوٹا تھا اور اس وقت بھی کامل اطاعت کی۔اور ہمیشہ انتہائی وفا کا نمونہ خلافت کے بعد بھی انہوں نے دکھایا۔کامل اطاعت کا نمونہ دکھایا۔اللہ تعالیٰ ان سے رحم اور مغفرت کا سلوک فرمائے اور اللہ تعالیٰ کے فضل حاصل کرنے کا جو انہوں نے