خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 622
خطبات مسرور جلد 16 622 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2018 مشکل محسوس کرتے تو کارکنان کو گھر بلا لیتے اور وہیں دفتر لگا لیتے۔آرام اور چھٹی کا کوئی تصور نہیں تھا۔بستر پر لیٹے لیے ترجمہ کر رہے ہوتے تھے۔کئی بار خاکسار کے ساتھ سائیکل پر بیٹھ کر دفتر تشریف لاتے۔زاہد محمود مجید صاحب کار کن اشاعت کہتے ہیں کہ محترم میاں صاحب کے ساتھ خدمت کا موقع ملا۔آپ خلافت کے شیدائی تھے۔جب فیکس لکھنی ہوتی آپ کو ( مجھے مخاطب کر رہے ہیں ) تو خاص جذباتی کیفیت طاری ہو جاتی اور اگر یہاں سے میری طرف سے کوئی کام ان کو تفویض ہوتا تو اس کے مکمل کرنے کے لئے بے تاب رہتے۔اگر صحت آڑے آتی تو بہت پریشان ہو جایا کرتے تھے۔یہی محمود مجید صاحب کہتے ہیں کہ خاکسار کے گردے میں پتھری تھی جس کا آپریشن فضل عمر ہسپتال میں ہوا۔کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب بتاتے ہیں کہ جب تک آپریشن نہیں ہو گیا محترم میاں صاحب آپریشن تھیڑ کے باہر ٹہلتے رہے اور دعا کرتے رہے۔محمد الدین بھٹی صاحب اشاعت کے کارکن ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ میں نے 1995ء سے وفات تک کام کرنے کی توفیق پائی ہے۔میاں صاحب مرحوم کارکنان کے ساتھ ہمیشہ مودبانہ طریق سے پیش آتے تھے۔جب بھی اپنے پاس کسی کام سے بلاتے تو کہتے کہ کرسی پر بیٹھ جائیں پھر بات شروع کرتے۔جب کبھی آپ کی طرف سے کسی کار کن پر ناراضگی کا اظہار ہو تا تو اس کے بعد جلد ہی مشفقانہ انداز اختیار کر لیتے حتی کہ بعض دفعہ معافی مانگنے تک نوبت آجاتی۔کہتے ہیں ایک دفعہ میاں صاحب نے کسی کام کا کہا اور خاکسار نے میاں صاحب کو انکار میں جو اب دے دیا۔نفی میں جواب دیا حالانکہ مجھ سے یہ گستاخی ہوئی تھی مگر انہوں نے اسے در گزر کیا اور صرف اتنا کہا کہ آپ کو ایسا جواب نہیں دینا چاہئے تھا۔کہتے ہیں خاکسار کچھ عرصہ گھٹنوں میں تکلیف کی وجہ سے بر وقت دفتر نہیں پہنچ سکتا تھا۔جب لیٹ ہو جاتا تو اس وجہ سے میری حاضری کے خانے پر لیٹ کر اس لگ جاتا تھا اور جب چند کر اس اس طرح کی لگ جائیں تو پھر ایک رخصت شمار ہو جاتی ہے۔تو کہتے ہیں میاں صاحب نے از خود وکیل اعلیٰ صاحب سے سفارش کی کہ اس کی تکلیف ہے اس لئے اس کو کر اس نہ لگایا جائے۔کہتے ہیں کہ میاں صاحب غریب طالب علموں، بے روز گاروں اور بیو گان کا خاص خیال رکھتے تھے۔طالب علموں کو کتب اور سکول یونیفارم خرید کر دیا کرتے تھے۔بیروزگاروں کی نوکریوں کے لئے سفارشی خطوط دیا کرتے تھے۔احسان اللہ صاحب مربی سلسلہ گھانا کہتے ہیں کہ ان کے زیر سایہ نو سال وکالت اشاعت میں کام کیا۔خلافت کے عشق اور ادب سے معمور وجود تھا۔بہت لطیف انداز میں اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے دلوں میں یہ محبت انجیکٹ کرتے رہتے تھے۔ایک دفعہ بلا کر خاکسار کو پاس بٹھا لیا اور کہا کہ حضور کو فیکس لکھ رہا ہوں یہ ابھی کرنی ہے۔پھر فیکس لکھنی شروع کی تو حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے الفاظ لکھ کر محویت کے عالم میں ان الفاظ پر چند منٹ نظریں جمائے رہے اور پھر بڑے جذباتی انداز میں خلافت سے متعلق اور باتوں کا ذکر کرتے رہے۔یہ کہتے ہیں کہ ماتحتوں پر شفقتوں کا ایک عجیب سلسلہ تھا۔کسی کو اپنے سامنے کھڑا نہیں رہنے دیتے تھے۔شدید بیماری اور کمزوری کے عالم میں بھی بشاشت قائم تھی۔اگر کسی کو ایک دن ڈانٹ دیا تو دو دن اتنی دلجوئی فرماتے رہتے تھے کہ بعض اوقات شرمندگی محسوس ہوتی تھی۔حالانکہ ڈانٹ کیا ہوتی تھی؟ اونچی آواز ہو جاتی تھی اور بس۔