خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 621 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 621

خطبات مسرور جلد 16 621 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2018 محبت تھی کہ بیماری میں بھی رکے نہیں۔بیماری کے ایام میں کئی مرتبہ انہوں نے مجھے بتایا کہ بیماری کی وجہ سے میرے کام کرنے کی رفتار کم ہو گئی ہے۔جب بیٹھتا ہوں تو جتنا میں چاہتا ہوں اتنا نہیں کر پاتا، تھک جاتا ہوں لیکن پھر بھی میں چھ سات گھنٹے بیٹھ ہی جاتا ہوں اور لگا تار کام کرتا ہوں۔ویسے تو ان کو میں نے بارہ بارہ تیرہ تیرہ گھنٹے بلکہ پندرہ گھنٹے کام کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ایاز صاحب لکھتے ہیں کہ ہم جب ربوہ گئے تو میاں صاحب نے بھی ہماری کچھ کلاسیں لی تھیں اور اس وقت بھی کہتے تھے اور بعد میں بھی جب بھی میں ان سے بات کرتا تو کہتے کہ تم لڑکے لٹریچر بھی پڑھا کرو اور ہر قسم کی کتاب پڑھنے کی عادت ڈالو۔صرف یہ نہیں کہ مذہبی کتابیں ہی پڑھتے رہو۔فلاسفی بھی پڑھو، لٹریچر بھی پڑھو، ناول بھی پڑھو۔اس سے زبان بھی وسیع ہوتی ہے اور علم بھی۔اور مجھے کہتے تھے کہ تمہارے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ تم ترجمہ کا کام کرتے ہو۔کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ایک مشکل لفظ کے انگریزی ترجمہ کے بارے میں پوچھا کہ آپ کے خیال میں لفظ کا ترجمہ کیا ہونا چاہئیے ؟ میاں صاحب ذرا سوچ میں پڑ گئے۔پھر دو تین الفاظ بھی بتائے۔میں نے میاں صاحب کو بتایا کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ایک جگہ اس لفظ کا انگریزی میں اس طرح ترجمہ کیا ہے۔اس پر وہ بڑے خوش ہوئے اور کہا کہ یہ بالکل ٹھیک ہے۔یہی اس کا صحیح ترجمہ ہے اور حضرت چوہدری صاحب کے لئے بڑی عزت اور عقیدت سے کہنے لگے کہ ان کی زبان بڑی اچھی تھی۔تم یہی الفاظ استعمال کرو۔پھر یہ ایاز صاحب کہتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ دیکھا کہ میاں صاحب اپنی عقل اور سمجھ اور علم کو خلیفہ وقت کے سامنے بالکل نہ ہونے کے برابر جانتے تھے۔پہلے اگر اپنی کوئی رائے ہوتی بھی تو جب میں بتاتا کہ خلیفہ وقت نے (میرا حوالہ دیتے کہ ) یوں کہا ہے تو فوراً کہتے کہ ہاں بس ٹھیک ہے۔میں غلط تھا جو حضور نے کہا ہے وہی ٹھیک ہے اور اس طرح بار بار مجھے سبق دیا کہ خلیفہ وقت کے سامنے باقی سب باتیں فضول ہیں۔وہی رائے درست ہے جو خلیفہ وقت کہیں اور ہمارے لئے ضروری ہے اس پر عمل کریں۔شیخ نصیر صاحب یہاں کارکن رشین ڈیسک ہیں۔کہتے ہیں کہ میاں صاحب کے ساتھ سولہ سال کا عرصہ وکالت اشاعت میں گزارا۔ان سے بہت کچھ میں نے سیکھا۔ہمیشہ ایک شفیق دوست کی طرح پایا۔انہوں نے خاکسار کو کبھی ماتحت ہونے کا احساس نہیں ہونے دیا۔اگر کبھی مجھے یہ محسوس ہوتا اور محسوس کرتا کہ میرے والدین نہیں ہیں تو انہوں نے ہمیشہیہ کہا کہ تم مجھے ان کی جگہ سمجھو۔پھر یہ لکھتے ہیں کہ تمام کارکنان سے ان کا شفقت کا سلوک تھا۔اگر کبھی میری غلطی کی بنا پر ہلکی سی نا معلوم سی بھی سرزنش کر دیتے تو اسے یاد رکھتے اور اگلے دن کہتے کہ تم نے مجھے معاف کر دیا تھا ناں ؟ میں کہتا میاں صاحب مجھے تو محسوس بھی نہیں ہوا کہ آپ نے جھڑ کا ہے۔اگر کبھی غصہ آتا تو بالکل خاموش ہو جاتے اور ہمیں پتہ چل جاتا کہ میاں صاحب ناراض ہیں لیکن تھوڑی دیر بعد کسی اور کام کے لئے فون آجاتا اور کوئی بات دل میں نہیں رکھتے تھے۔اور جب بھی خلیفہ وقت، خلیفہ المسیح کی طرف سے کسی کام کی کوئی ذمہ داری ڈالی جاتی تو متعلقہ کارکنان کے ساتھ میٹنگ کر کے طریقہ کار طے کر لیتے اور جو سب سے مشکل کام ہو تا اپنے ذمہ لے لیتے اور بیماری کے باوجود گھر میں رہتے ہوئے بھی وہ مکمل کرنے کی کوشش کرتے۔دفتر آنے میں