خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 54
خطبات مسرور جلد 16 54 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 فروری 2018 احکام کے لئے اپنا سر خم کر دے تو کیا شک ہے کہ وہ اس عذاب سے جو پوشیدہ طور پر اس کے بد عملوں کی پاداش میں تیار ہو رہا تھا بچایا جاوے گا اور اس طرح پر وہ وہ چیز پالیتا ہے جس کی گویا اسے توقع اور امید ہی نہ رہی تھی۔" فرمایا کہ " تم خود قیاس کر سکتے ہو کہ ایک شخص جب کسی چیز کے حاصل کرنے سے بالکل مایوس ہو گیا ہے اور اس ناامیدی اور پاس کی حالت میں وہ اپنے مقصود کو پالے تو اسے کس قدر خوشی حاصل ہو گی۔اس کا دل ایک تازہ زندگی پائے گا۔یہی وجہ ہے کہ احادیث میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔احادیث اور کتب سابقہ سے یہی پتہ لگتا ہے کہ جب انسان گناہ کی موت سے نکل کر تو بہ کے ذریعہ نئی زندگی پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی زندگی سے خوش ہوتا ہے۔حقیقت میں یہ خوشی کی بات تو ہے ہی کہ انسان گناہوں کے نیچے دبا ہو اور ہلاکت اور موت ہر طرف سے اس کے قریب ہو۔عذاب الہی اس کے کھا جانے کو تیار ہو کہ وہ یکا یک ان بدیوں اور بدکاریوں سے جو بعد اور ہجر کا موجب تھیں تو بہ کر کے خدا تعالیٰ کی طرف آجاوے۔وہ وقت خدا کی خوشی کا ہو تا ہے اور آسمان پر ملائکہ بھی خوشی کرتے ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کا کوئی بندہ تباہ اور ہلاک ہو۔بلکہ وہ تو چاہتا ہے کہ اگر اس کے بندہ سے کوئی غلطی اور کمزوری بھی ظاہر ہوئی ہے پھر بھی وہ تو بہ کر کے امن میں داخل ہو۔پس یاد رکھو کہ وہ دن جب انسان اپنے گناہوں سے تو بہ کرتا ہے بہت ہی مبارک دن ہے اور سب ایام سے افضل ہے۔کیونکہ وہ اس دن نئی زندگی پاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے قریب کیا جاتا ہے۔اور اس لحاظ سے یہ دن جس میں تم میں سے بہتوں نے اقرار کیا ہے یعنی بیعت کا دن کہ میں آج اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور آئندہ جہانتک میری طاقت اور سمجھ ہے گناہوں سے بچتارہوں گا) یومِ توبہ ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق میں یقین رکھتا ہوں کہ ہر ایک شخص کے جس نے سچے دل سے توبہ کی ہے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے اور وہ اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهُ کے نیچے آگیا ہے۔گویا کہ کہہ سکتے ہیں کہ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔مگر ہاں میں پھر کہتا ہوں کہ اس کے لیے یہ شرط ہے کہ حقیقی پاکیزگی اور سچی طہارت کی طرف قدم بڑھایا جاوے۔اور یہ تو بہ نری لفظی توبہ ہی نہ ہو بلکہ عمل کے نیچے آجاوے۔یہ چھوٹی سے بات نہیں ہے کہ کسی کے گناہ بخش دیئے جاویں بلکہ ایک عظیم الشان امر ہے۔" فرمایا: " دیکھو۔انسانوں میں اگر کوئی کسی کا ذرا سا قصور اور خطا کرے تو بعض اوقات اس کا کینہ پشتوں تک چلا جاتا ہے۔وہ شخص نسلاً بعد نسل تلاش حریف میں رہتا ہے کہ موقع ملے تو بدلہ لیا جاوے۔لیکن اللہ تعالیٰ بہت ہی رحیم کریم ہے۔انسان کی طرح سخت دل نہیں جو ایک گناہ کے بدلے میں کئی نسلوں تک پیچھا نہیں چھوڑ تا اور تباہ کرنا چاہتا ہے۔مگر وہ رحیم کریم خداستر برس کے گناہوں کو ایک کلمہ سے ایک لحظہ میں بخش دیتا ہے۔یہ مت خیال کرو کہ وہ بخشا ایسا ہے کہ اس کا فائدہ کچھ نہیں۔نہیں۔وہ بخشا حقیقت میں فائدہ رساں اور نفع بخش ہے اور اس کو وہ لوگ خوب محسوس کر سکتے ہیں جنہوں نے سچے دل سے توبہ کی ہو۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 148 تا150) پس یہ حقیقی تو بہ ہے جو پھر حفاظت کے انتظام کرتی ہے۔اگر یہ نہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ بھی یاد رکھو کہ وہ شَدِيدُ الْعِقَابِ بھی ہے۔یعنی انسان جب اللہ تعالیٰ کے حکموں کی پرواہ نہیں کرتا تو وہ اسے سزا بھی دیتا ہے۔اور پھر فرمایاوہ ذی الکول ہے وہ بہت دینے والا ہے۔وہ فائدہ پہنچانے کی انتہا کر دیتا ہے۔اس کی جو عطا ہے