خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 620
خطبات مسرور جلد 16 620 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21دسمبر 2018 گئی تھیں۔پھر بعد میں بھی باقاعدہ اس بارے میں پوچھتے رہتے تھے۔محمد سالک صاحب برما کے مبلغ ہیں کہتے ہیں کہ سری لنکا کے طالبعلم کا ایک واقعہ جس نے متاثر کیا۔ایک طالبعالم منیر احمد سری لنکا سے جامعہ میں پڑھنے کے لئے آئے تھے اور وہ اس وقت سری لنکا میں بطور مبلغ کام کر رہے ہیں جامعہ کے دوران ایک دفعہ بیمار ہو گئے۔ان کی شدید بیماری پر میاں صاحب بہت زیادہ فکر مندی سے دن رات ہوسٹل میں آکر ان کا حال اس طرح پوچھا کرتے تھے جیسے کہ ان کا کوئی اپنا عزیز بیمار ہو۔یہ اُن دنوں میں مرزا انس احمد صاحب ایڈ منسٹریٹر تھے جامعہ احمدیہ کے۔شمشاد صاحب مبلغ امریکہ لکھتے ہیں کہ مربیان کے ساتھ میٹنگ میں ان کے اندر تبلیغ کا جذبہ پیدا کرنے کی بہت کوشش کرتے تھے۔مطالعہ کا بہت شوق تھا۔مربیان کو بھی مطالعہ کرنے کی بار بار توجہ دلاتے اور خود بھی ہمیشہ دفتر میں کتابوں کا ڈھیر لگا کر رکھا ہوتا تھا۔بخاری شریف کا کثرت سے مطالعہ کرتے تھے۔آنے جانے والے مر بیان سے بھی علمی گفتگو کرتے رہتے تھے۔شاہد محمود صاحب مبلغ گھانا لکھتے ہیں کہ خاکسار کو میاں صاحب کے ساتھ بارہ سال سے زائد عرصہ وکالت اشاعت میں بطور مدیر ماہنامہ تحریک جدید انگریزی حصہ کا کام کرنے کی توفیق ملی۔میاں صاحب سے بے شمار چیزیں سیکھنے کو ملتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت اور خلافت کی محبت اور اطاعت آپ میں خوب بھری ہوئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام کے ساتھ اکثر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے تھے۔کتب کے ترجمہ اور بالخصوص براہین احمدیہ، سرمہ چشم آریہ اور محمود کی آمین کے ترجمہ کے وقت مجھے اپنے ساتھ دفتر میں بٹھایا کرتے تھے اور متعدد بار ترجمہ کے کام کے لئے اپنے گھر بھی بلایا کرتے تھے۔نہ چھٹی کے دن کی اور نہ ہی دفتر بند ہونے کی کوئی فکر ہوتی تھی۔اکثر اوقات شام دیر تک کام جاری رکھتے تھے۔اس کے باوجو د میری مہمان نوازی اور شفقتوں کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا۔اور یہ کہتے ہیں کہ نماز ظہر کے لئے امامت کی میری ڈیوٹی لگارکھی تھی۔دفتر میں ہی سارے کارکن نماز پڑھ لیتے تھے۔جب میں دیکھتا تھا کہ سنتیں وغیرہ پڑھ رہے ہیں تو ان کی ادائیگی نماز بھی دیدنی تھی۔بہت لطف کے ساتھ نماز ادا کیا کرتے تھے۔دفتر کے عملے کے ساتھ بہت شفقت کا سلوک تھا۔کہتے ہیں ایک دفعہ بیماری کے باوجود خاکسار دفتر حاضر ہو گیا۔مجھے زبر دستی چھ ایام کی رخصت دے کر آرام کے لئے گھر بھجوا دیا اور خود بیماری کے باوجود آجاتے تھے اور گھر پر بھی کام جاری رکھتے تھے۔ایاز محمود خان مربی وکالت تصنیف یو کے کہتے ہیں کہ کام کے سلسلہ میں نے آپ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔آپ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا ترجمہ بڑے شوق سے کرتے اس لئے ترجمہ کے دوران جو مشکل مقامات اور ان کے حل ہوتے ان کے بارے میں بھی بتاتے اور اپنا تجربہ بھی شیئر کرتے تھے۔ایک بات جو خاص طور پر آپ کہا کرتے وہ یہ تھی کہ ترجمہ کرتے وقت صرف لفظی ترجمہ ڈکشنری سے لگا دینا کافی نہیں ہے۔یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وہ لفظ کسی لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان کو کم کرنے والا تو نہیں ؟ اور اگر کوئی لفظی ترجمہ ٹھیک نہیں ہے تو اصل مضمون کو convey کرنے والا کوئی لفظ ہونا چاہئے۔اور پھر ترجمہ کے کام سے اتنی