خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 619
خطبات مسرور جلد 16 619 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2018 پھر حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ آپ کی محبت حدیث کا ایک خوبصورت نظارہ رمضان المبارک میں آپ کے درس حدیث سے ہو تا تھا۔بڑے اہتمام اور محنت سے آپ یہ درس دیا کرتے جو بالعموم سیر ۃ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف موضوعات پر ہوتے تھے اور اس میں نادر اور قیمتی مواد جمع کر کے پیش فرماتے۔آواز میں بھی خاص سوزو گداز تھا۔ان کے درس ہم رمضان میں خاص طور پر سنا کرتے تھے۔بڑے خوبصورت انداز میں درس دیا کرتے تھے۔ایک خاص جذبہ عشق اور ایسے دلنشین انداز سے درس دیتے تھے کہ انسان کچھ لمحات کے لئے لگتا تھا کہ قرون اولیٰ کے دور میں چلا گیا ہے۔جلسہ سالانہ ربوہ میں بھی آپ کو کئی سال تک تقاریر کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔شمیم پر ویز صاحب نائب وکیل وقف ٹو لکھتے ہیں کہ ان کی خلافت سے والہانہ محبت کا ایک واقعہ میرے دل پر نقش ہے۔کہتے ہیں جب خلافت رابعہ کا انتخاب ہوا تو اُس وقت خاکسار قائد ضلع جھنگ تھا اور ڈیوٹی مسجد مبارک کے محراب کے باہر تھی۔جو نہی اندر سے حضرت مرزا طاہر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ خلیفہ المسیح الرابع کے خلیفہ منتخب ہونے کی اطلاع آئی تو شمیم صاحب کہتے ہیں میں نے مرزا انس احمد صاحب کو دیکھا جو کہ جون کی شدید گرمی کے باوجود اینٹوں کے تپتے ہوئے فرش پر سجدہ شکر کرتے ہوئے گر گئے۔ڈاکٹر افتخار صاحب لندن سے لکھتے ہیں کہ حقیقی معنوں میں واقف زندگی تھے۔دفتر آنا نہیں چھوڑا اور سلسلہ کے اشاعت اور تراجم کے کاموں میں آخری دم تک مشغول رہے۔پھر کہتے ہیں کہ تراجم بہت انہماک کے ساتھ کرتے اور موزوں محاورہ تلاش کرنے میں بعض دفعہ کئی کئی دن لگا دیتے اور اطاعت کا معیار بھی بہت اعلیٰ تھا۔خالد صاحب رشین ڈیسک لندن لکھتے ہیں کہ میاں صاحب کی شخصیت جب بھی خاکسار کے ذہن میں آتی ہے تو لگتا ہے جیسے ان کی ذات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ اُطلُبُوا الْعِلْمَ مِنَ الْمَهْدِ إِلَى اللَّحْدِ ( تفسیر روح البیان جلد 5 صفحه: 375 تفسير سورة الكهف مطبوعه دارا كتب العلمية بيروت 2003ء) کی حقیقی اور عملی تصویر تھی۔میاں صاحب کو مختلف علوم سیکھنے کا بے انتہا شوق تھا۔کوئی بھی نئی چیز معلوم کرنے اور کچھ نیا جاننے کا موقع ہر گز ضائع نہیں کرتے تھے اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور علم حدیث ان کا خاص اور پسندیدہ موضوع تھا۔نیز علم اللسان بھی ان کا خاص شوق تھا۔مختلف زبانوں کو سیکھنا پسند کرتے تھے۔کہتے ہیں مہمان نوازی بھی ایک خاص وصف تھا۔2005ء کی بات ہے کہ جب رستم حماد ولی صاحب صدر جماعت رشیا جو ماسکو کے معلم بھی ہیں، رشین ترجمہ قرآن کی تیاری کے کام کے سلسلہ میں ربوہ آئے تو خالد صاحب کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ مل کے مجھے کام کا موقع ملا۔رستم صاحب کی رہائش ان دنوں میں گیسٹ ہاؤس تحریک جدید میں تھی۔ایک دفعہ کھانے کے وقت رستم صاحب کے مزاج کے مطابق کچھ مطلوبہ چیزیں موجود نہیں تھیں یا غالبا ختم ہو گئی تھیں تو میاں انس تک یہ بات پہنچی۔انہوں نے فوڑا مجھے بلوایا اور کہا کہ رستم صاحب ہمارے معزز مہمان ہیں۔ان کی ضرورت کی ہر چیز کا خیال رکھنا ہمارا اولین فرض ہے اور پھر اپنی جیب سے رقم دی کہ مطلوبہ چیزیں لا کر دیں اور آئندہ کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بتائیں۔کہتے ہیں کہ میں نے ان کو کہا کہ انتظام ہو گیا ہے اور چیزیں مہیا کر دی