خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 618 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 618

خطبات مسرور جلد 16 618 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21دسمبر 2018 ان کا علم بڑا گہر تھا۔اس سے جماعت اب محروم ہو گئی ہے۔اللہ تعالیٰ اور علماء پیدا کرے۔ایک خوبی ہر ایک نے لکھی ہے۔بہت سارے مبلغین نے بھی لکھا ہے اور شمس صاحب بھی یہ لکھتے ہیں کہ مبلغین کی بہت عزت کیا کرتے تھے۔یہ ان کی بہت بڑی خوبی تھی اور علمی رنگ میں رہنمائی بھی فرمایا کرتے تھے۔حافظ مظفر احمد صاحب ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد مقامی ربوہ کہتے ہیں کہ میاں صاحب گوناگوں صفات کے مالک تھے۔خدا ترسی، محبت الہی ، عشق ،قرآن، عشق رسول، سادگی، تواضع اور رحمت و شفقت آپ کے نمایاں اوصاف تھے۔حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی خیال رکھتے۔غرباء اور مساکین کا بہت احساس تھا۔کسی ضرور تمند کو خالی ہاتھ واپس نہ کرتے خواہ قرض لے کر ہی اس کی مدد کیوں نہ کرنی پڑے۔حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ ایک علمی شخصیت تھے۔حصولِ علم کا خاص ذوق تھا اور اس کے لئے آپ نے بہت محنت اور مجاہدہ کیا۔حافظ صاحب کہتے ہیں خود مجھ سے انہوں نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے مطالعہ کا پہلا دور انہوں نے میٹرک کے امتحان کے بعد دسویں کے امتحان کے بعد جو چھٹیاں ہوتی ہیں ، اس فراغت کے عرصہ میں مکمل کیا تھا۔یہ بات انہوں نے مجھے بھی بتائی تھی بلکہ ایک خط میں لکھ کے دی تھی کہ میں نے پہلی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پندرہ سولہ سال کی عمر میں ختم کر لی تھیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشق تھے۔حافظ صاحب لکھتے ہیں اور اسی مناسبت سے علم حدیث سے بھی خاص ذوق اور لگاؤ بلکہ محبت تھی جس کے لئے آپ نے ذاتی محبت اور مطالعہ سے عربی زبان میں بھی اتنی قابلیت اور مہارت پیدا کر لی کہ احادیث کے علاوہ ان کی عربی شروح و غیرہ بھی زیر مطالعہ رکھتے تھے۔میٹرک کے بعد صحیح بخاری آپ نے حکیم خورشید صاحب سے پڑھی۔اس کے بعد بھی میں نے دیکھا کہ جب آپ کالج میں لیکچر رتھے تو صبح کالج جانے سے پہلے حکیم صاحب کے گھر کے سامنے ان کی کار کھڑی ہوتی تھی۔وہاں حکیم صاحب سے حدیث پڑھنے کے بعد پھر یہ اپنے کام پر جایا کرتے تھے۔پھر کہتے ہیں اس کے بعد صحاح ستہ اور دیگر کتب حدیث کا ذاتی شوق سے مطالعہ کیا اور آخر دم تک ایک طالب علم ہی رہے۔کتب حدیث کا ایک بہت عمدہ اور قیمتی ذخیرہ انہوں نے ایک زر کثیر سے اپنی لائبریری میں جمع کیا جس میں بہت مفید نایاب کتب موجود ہیں اور اس لحاظ سے ان کی ذاتی لائبریری بے نظیر اور اپنی مثال آپ ہے۔علم حدیث سے اتنا شغف تھا کہ اس کے دیگر موضوعات علم الرجال اور علم اصول حدیث پر بھی دستیاب کتب آپ کے پاس تھیں جو انہوں نے جمع کر رکھی تھی۔گہر امطالعہ کرتے تھے اور علمی گفتگو میں مختلف امور زیر بحث لاتے رہتے تھے۔تراجم صحاح ستہ کے سلسلہ میں جب میں نے یہاں سے ایک نیا بورڈ قائم کیا۔نور فاؤنڈیشن قائم کی اس کا کام تھا کہ حدیثوں کا جیسا کہ میں نے کہا کہ اردو میں ترجمہ کریں، اور بعض کی شرح بھی لکھیں۔اس میں حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ میاں صاحب کو بھی ممبر مقرر کیا گیا اور میاں صاحب موصوف نے باوجود اپنے دفتری کاموں کے از خود ذاتی طور پر مسند احمد بن حنبل کے اردو ترجمہ کا سب سے مشکل اور طویل کام اپنے ذمہ لے لیا اور پھر دیگر مصروفیات اور خرابی صحت کے باوجود اسے مسلسل جاری رکھا اور ایک حصہ کا ترجمہ جو سینکڑوں احادیث پر مشتمل ہے آپ نے مکمل بھی کر لیا تھا۔آپ کی یہ خدمت بھی یاد گار رہے گی۔