خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 617 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 617

خطبات مسرور جلد 16 617 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2018 کرتے ہوئے نوری صاحب کہتے ہیں انہوں نے مجھے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی وہ ڈائری عنایت فرمائی جس پر حضور نے اپنی خواہیں وغیرہ لکھی ہوئی تھیں۔اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کا ایک کوٹ بھی مجھے دیا۔اسی طرح میڈیکل ٹیم کے ساتھ بھی بڑی شفقت کا سلوک کیا۔ان کے کمرے کی لائبریری تو میں نے بھی دیکھی ہوئی ہے۔نوری صاحب نے بھی لکھا ہے کہ ساری دیواریں ، چاروں دیواروں کے جو شیلف تھے چھت تک اس میں کتابیں بھری ہوتی تھیں اور اس میں مختلف قسم کی سائنسی، معاشی اور مختلف topics پر کتابیں تھیں جو انہوں نے کہا کہ میں نے خود پڑھی بھی ہوئی ہیں۔میر داؤد احمد صاحب مرحوم کی بیٹی ندرت کہتی ہیں کہ ان کی وفات کا سن کے بہت ساری پرانی یادیں میرے دل میں آئیں ، دماغ میں آئیں اور حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی یادیں تازہ ہو گئیں۔کہتی ہیں میری بیٹی کی شادی تھی تو انتظام چیک کرنے کے لئے وقت سے پہلے مار کی میں گئی تو وہاں بھائی انس پہلے سے بیٹھے تھے اور رور ہے تھے۔میں حیران ہوئی کہ یہاں اتنی جلدی کیوں آگئے ہیں تو مجھے دیکھ کر بتایا کہ آج مجھے تمہارے ابا میر داؤد احمد صاحب مرحوم بہت یاد آ رہے تھے ، تو میں یہاں آکر تمہارے لئے دعا کر رہا تھا۔ان کے بھانجے عامر احمد لکھتے ہیں کہ خوشی غمی میں ایک محبت کرنے والے باپ کی طرح موجود رہے۔ہر گھر میں اورنچ پہنچ ہوتی ہے لیکن ایسے معاف کر دیتے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں۔بلکہ اگر محسوس کر لیتے کہ میری کسی نصیحت کی وجہ سے اگلے کو تکلیف پہنچی ہے تو اس نیک نصیحت کے باوجود اگلے دن خود اس سے معذرت کرتے ، معافی مانگتے۔منیر الدین شمس صاحب ایڈیشنل وکیل التصنیف کہتے ہیں کہ ان کی میرے ساتھ کئی سٹنگز (sittings ) ہوتی رہیں۔ہمیشہ انہیں ہمدرد اور شفیق پایا۔باوجودیکہ عمر میں مجھ سے کافی بڑے تھے کبھی انہوں نے نہ اپنی عمر کی اور نہ اپنے علم کی برتری کا اظہار کیا۔منیر الدین صاحب کہتے ہیں کہ جب سے میاں صاحب کے ساتھ تصنیف میں کام کے سلسلہ میں واسطہ پڑا ہمیشہ انہیں بہت مددگار، رہنما اور تعاون کرنے والا پایا۔جب بھی انہیں کوئی کام دیا گیا انہوں نے بہت محنت اور لگن کے ساتھ اسے نبھایا بلکہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ مزید کام دیں تاکہ بیماری میں جتنا زیادہ کام کر سکوں بہتر ہے۔خلافت سے بے پناہ اخلاص اور وفا کا تعلق تھا اور اکثر جب بھی کام کے سلسلہ میں بات ہوتی تو یہی کہتے کہ میر اسلام کہنا۔اور مجھے سلام بھجواتے تھے اور ہر مرتبہ پوچھتے تھے کہ میرے کام کی وجہ سے کوئی ناراضگی تو نہیں۔ہر وقت فکر رہتی تھی کہ خلیفہ وقت کہیں ناراض نہ ہو جائے۔شمس صاحب ہی لکھتے ہیں کہ باوجو د بیماری کے جب بھی میری طرف سے انہیں کوئی کام دیا جاتا تو بڑی خوشی کے ساتھ جلد از جلد مکمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض کتب کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کے سلسلہ میں انہوں نے بہت قابل قدر خدمات سر انجام دینے کی توفیق پائی۔براہین احمدیہ کے بعض حصوں کا انہوں نے بہت عمدہ ترجمہ کرنے کی توفیق پائی۔کہتے ہیں ترجمہ کو فائنل کرتے ہوئے ہماری جو ٹیم تھی وہ بھی ان کی رائے کو مد نظر رکھتی تھی۔جب کبھی کوئی ہدایات دی جاتیں ، اور میری طرف سے جب ہدایات جاتیں، وکالت تصنیف ان کو دیتی کہ یہ خلیفہ وقت نے کہا ہے اور اس بارے میں اپنی رائے دیں تو بڑی مدنل رائے بھجوایا کرتے تھے۔بہر حال ایک عالم تھے اور