خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 616
خطبات مسرور جلد 16 616 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21دسمبر 2018 راستے بھی کھول دئے اور یہ پابندی پھر دور ہو گئی۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 37 صفحہ 53 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مورخہ 3 فروری 1956ء) ان کے داماد مر زا وحید احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اپنے سفر پر بخارا اور سمر قند جارہا تھا تو مرزا انس احمد صاحب نے مجھے کہا کہ وہاں تم جارہے ہو تو امام بخاری کی قبر پر بھی جانا اور میری طرف سے بھی دعا کرنا اور سلام کہنا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی محبت کی وجہ سے یہ تھا کہ اس شخص نے جس نے سینکڑوں سال پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور واقعات کا خزانہ جمع کر کے ہم تک پہنچایا ہے اس کا حق بنتا ہے کہ ہم اس کے لئے دعا کریں اور اسے سلام پہنچائیں۔ڈاکٹر نوری صاحب لکھتے ہیں کہ میرا جو بھی ان کے ساتھ تجربہ ہوا اور کافی عرصہ ان کو دیکھنے کا موقع ملا کہ جو کام آپ کو دیا جاتا آپ ایک جذبے کے ساتھ اسے مکمل کرتے۔نہایت جانفشانی اور محنت اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو پوری طرح سر انجام دیتے۔کہتے ہیں کمزوری اور بیماری کے باوجود میں نے آپ کو لیپ ٹاپ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا ترجمہ کرتے ہوئے دیکھا۔گھنٹوں کمپیوٹر پر ٹائپ کرتے اور آپ کے ساتھی قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے حوالے لے کر آپ کے پاس کھڑے ہوتے۔آپ اکثر یہ کہتے کہ میری خواہش تو صرف اتنی ہے کہ جو کام خلیفہ وقت نے میرے سپرد کیا ہے میں اللہ تعالیٰ کی مدد سے اسے پورا کر دوں۔نوری صاحب لکھتے ہیں کہ ان کی یادداشت بھی نہایت قابل تعریف تھی۔احادیث اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کے واقعات آپ اس قدر جوش اور جذبے اور نہایت لطیف انداز میں بیان کرتے تھے کہ سننے والے کا دل موہ لیتے تھے اور واقعات بیان کرتے وقت آپ کی آنکھیں نم ہو جاتیں اور آواز بھرا جاتی۔صبر بھی ان میں بہت تھا۔نوری صاحب ہی لکھتے ہیں کہ ہر قسم کے مشکل حالات میں آپ نے ہمیشہ صبر اور ہمت کا مظاہرہ کیا۔حوصلے کے ساتھ ہر تنگی کو برداشت کرتے۔اپنی علالت کی وجہ سے آپ ایک پیالی چائے کی نہیں اٹھا سکتے اور نہ ہی بستر پر پہلو بدل سکتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ نے ہمیشہ اپنا کام جاری رکھا اور بڑی جانفشانی سے اپنی ذمہ داری نبھائی اور کبھی کوئی شکایت کا موقع نہ دیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے۔نوری صاحب کہتے ہیں کہ ہر آنے والے کو خوشی سے اور مسکر اکر ملتے یہ آپ کا ایک بہت بڑا خلق تھا۔طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ میں داخلے سے ایک دن قبل آپ مجھے ملنے آئے۔بیماری کی وجہ سے آپ کے چہرے پر شدید درد محسوس ہو رہی تھی اس کے باوجود آپ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میر اخیال ہے کہ میرا خاتمہ قریب ہے اور میں اپنے رب سے ملنے جارہا ہوں۔یہ بات آپ نے بڑے مسکراتے چہرے سے کی۔پھر نوری صاحب ان کی شکر گزاری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ احسان مندی اور شکر گزاری کی صفت ان میں بے پناہ تھی۔کہتے ہیں دو موقعوں پر آپ نے بہت احسان کرتے ہوئے مجھے کہا کہ آپ نے جس خلوص نیت کے ساتھ مجھ پر احسان کیا ہے، میری تیمار داری کی ہے میں اس کی قیمت کبھی ادا نہ کر پاؤں گا اور یہ جذبات کا اظہار