خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 615
خطبات مسرور جلد 16 615 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2018 قانون پڑھ کر اپنی زندگی وقف کروں لیکن اب آپ جہاں چاہیں مجھے لگا دیں میں ہر طرح تیار ہوں۔" (خطبات محمود جلد 36 صفحه 194 خطبه جمعه بیان فرموده مورخه 14 اکتوبر 1955ء) اللہ تعالیٰ کے فضل سے 56 سال تک ان کو مختلف جماعتی دفاتر میں خدمت کی توفیق ملی۔پہلے ابتدائی تقرر ان کا تعلیم الاسلام کالج میں بطور لیکچرر ہوا۔پھر 1975ء میں نائب ناظر اصلاح و ارشاد مقرر ہوئے۔پھر ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد مقرر ہوئے، حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے اور حضرت خلیفہ المسیح الرابع کے پہلے دورہ یورپ کے دوران پرائیویٹ سیکرٹری بھی رہے۔جامعہ احمدیہ کے ایڈ منسٹریٹر کے طور پر بھی ان کو خدمت کی توفیق ملی۔کچھ سال یہ ناظر تعلیم بھی رہے۔نائب ناظر دیوان رہے اور تحریک جدید میں یہ اب وکیل الاشاعت کے کام پر فائز تھے۔یہ پہلے وکیل التصنیف تھے پھر مارچ 1999ء میں وکیل الاشاعت مقرر ہوئے اور 97ء میں گو عمر کے لحاظ سے ان کی ریٹائر منٹ ہو گئی تھی لیکن آخر دم تک ان کو خدمت کی توفیق ملی۔خدام الاحمدیہ ، انصار اللہ مرکز یہ میں بھی ان کو مختلف خدمات کی توفیق ملی۔براہین احمدیہ اور محمود کی آئین کا انگریزی ترجمہ بھی انہوں نے کیا جو شائع ہو چکا ہے۔آجکل سرمہ چشم آریہ، ازالہ اوہام اور در ثمین کے انگریزی ترجمہ کی نظر ثانی پر کام کر رہے تھے۔ہمارے سکول جو قومیائے گئے تو اس کے بعد جماعت نے اپنے سکول شروع کئے تھے جو ناصر فاؤنڈیشن کے تحت شروع کئے گئے اس کے بھی چیئر مین رہے۔مجلس افتاء کے ممبر بھی تھے۔نور فاؤنڈیشن بورڈ کے ممبر بھی تھے۔نور فاؤنڈیشن قائم کی گئی تھی تا کہ احادیث کی کتب جو ہیں ان کو جماعتی طور پر شائع کیا جائے اور ان کا ترجمہ اور شرح لکھی جائے۔مسند احمد بن حنبل کا اردو ترجمہ یہ کر رہے تھے۔پارٹیشن کے وقت جب قادیان سے ہجرت ہوئی ہے تو حضرت مصلح موعودؓ نے ان کا ایک واقعہ بیان کیا ہے۔یہ تاریخی واقعہ جو حضرت مصلح موعودؓ کی اپنی قربانی تھی اس سے متعلق ہے لیکن ان کا ذکر بیچ میں آتا ہے اس لئے میں سنا دیتا ہوں۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ جب ہم قادیان سے آئے تو میں نے اپنے گھر والوں سے کہہ دیا تھا کہ تمہیں لنگر سے اسی قدر کھانا ملے گا جس قدر دوسروں کو ملتا ہے (کیونکہ حالات خراب تھے اس لئے راشن مقرر ہوا ہوا تھا۔فرمایا کہ ان دنوں میں نے یہ ہدایت دی ہوئی تھی کہ مالی تنگی کی وجہ سے صرف ایک ایک روٹی فی کس دی جائے گی اور اپنے گھر والوں کو بھی میں نے یہی کہا تھا کہ تمہیں بھی ایک ایک روٹی فی کس ملے گی۔فرماتے ہیں ایک دن میرا پوتا انس احمد روتا ہوا میرے پاس آیا اور مجھے بتایا گیا کہ یہ کہتا ہے کہ ایک روٹی سے میرا پیٹ نہیں بھرتا۔میں نے کہا کہ میں نے تو ایک ہی روٹی دینی ہے۔اگر اس کا پیٹ ایک روٹی سے نہیں بھر تا تو پھر تم مجھے آدھی روٹی دے دیا کرو اور میری آدھی روٹی اسے دے دیا کرو۔حضرت مصلح موعودؓ نے پھر فرمایا اس طرح میں آدھی روٹی میں گزارا کر لیا کروں گا اور یہ ڈیڑھ روٹی کھا لیا کرے گا۔آپؐ فرماتے ہیں کہ جب مہمانوں کے لئے ایک روٹی کی شرط اٹھ جائے گی تو پھر میں گھر والوں کے لئے بھی فی کس روٹیوں کی تعداد بڑھا دوں گا لیکن جب تک مہمانوں کے لئے ایک روٹی کی شرط نہیں اُڑتی اسے میری روٹی کا نصف حصہ دے دیا کرو۔آپ فرماتے ہیں پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے فضل کر دیا اور نہ صرف یہ کہ سندھ کی زمینوں کی پیداوار اچھی ہو گئی بلکہ خدا تعالیٰ نے آمد کے اور