خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 614 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 614

خطبات مسرور جلد 16 614 51 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 21 / دسمبر 2018ء بمطابق 21 / فتح 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج میرا ارادہ تھا کہ پہلے کچھ صحابہ کا ذکر کروں گا اور اس کے بعد مکرم مرزا انس احمد صاحب جن کی گزشتہ دنوں وفات ہوئی ہے ان کا ذکر ہو گا لیکن لوگوں نے ان کے متعلق جو کافی سارے خطوط مجھے لکھے، ان کی باتیں لکھیں اس کی وجہ سے میں نے سمجھا کہ انہیں کا ذکر آج کر دوں۔مرزا انس احمد صاحب جو حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے بڑے بیٹے تھے ان کی گزشتہ دنوں ربوہ میں 81 سال کی عمر میں وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔یہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سب سے بڑے پوتے تھے اور حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور نواب محمد علی خان صاحب کے نواسے تھے۔اس لحاظ سے یہ میرے ماموں زاد بھائی بھی تھے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم قادیان میں لی پھر ربوہ میں مکمل کی۔پھر پنجاب یونیورسٹی سے ایم۔اے پاس کیا۔پھر کچھ عرصہ وہاں کالج میں خدمت کی اور پھر یہاں آکسفورڈ یونیورسٹی انگلستان میں تعلیم حاصل کی۔یہاں سے انہوں نے ایم اے کیا۔خدا کے فضل سے 1955ء میں انہوں نے زندگی وقف کی اور 1962ء میں عملی زندگی میں قدم رکھا اور بڑی محنت سے مختلف شعبہ جات میں انہوں نے کام کیا۔بڑے شوق سے اور ہمت سے اور محنت سے کام کرنے کے عادی تھے۔علم حدیث، فلسفہ اور انگریزی ادب میں ان کا بڑا گہرا مطالعہ تھا۔حدیث سے خاص طور پر بڑا شغف تھا اور اسی لئے اپنے شوق سے حدیث کی ابتدائی تعلیم محترم مولوی خورشید احمد صاحب مرحوم سے انہوں نے حاصل کی۔اپنے گھر میں بھی ان کی بڑی اچھی لائبریری تھی۔بڑی نایاب کتب رکھا کرتے تھے۔پڑھنے کا بہت شوق تھا۔کوئی طالبعلم بھی کسی شعبہ میں رہنمائی کے لئے آ جاتا تو بڑی اچھی معلومات دیا کرتے تھے۔حدیث کے اہم اور بنیادی مآخذ کی کتب کے سیٹ بھی ان کے پاس تھے اور یہ مختلف کتب خانوں سے انہوں نے اکٹھے کئے تھے۔انہوں نے جب 1955ء میں زندگی وقف کی اور اپنے آپ کو پیش کیا تو اس وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ " میں نے جماعت میں جو وقف کی تحریک شروع کی ہے اس کے بعد میرے پاس تین درخواستیں آئی ہیں ایک تو میرے پوتے مرزا انس احمد کی ہے جو عزیزم مرزا ناصر احمد کا لڑکا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے اپنی نیت کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔" اور " انس احمد نے لکھا ہے کہ میرا ارادہ تھا کہ میں۔