خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 612 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 612

خطبات مسرور جلد 16 612 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2018 سکول سے تھی کہ اس نے دکھ دیا ہے۔حضرت سعد بن معاذ جو اوس قبیلہ کے سردار تھے کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ ! اگر وہ شخص ہم میں سے ہے تو ہم اس کو مارنے کے لئے تیار ہیں۔اور اگر وہ خزرج سے ہے تب بھی اس کو مارنے کے لئے تیار ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ شیطان تو ہر وقت فتنہ ڈلوانے کے لئے موقع کی تلاش میں رہتا ہے اس موقع پر بھی شیطان نہیں چونکا۔خزرج کو یہ خیال نہ آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے کتنا صدمہ پہنچا ہے۔جب سعد بن معاذ نے یہ بات کی تو دوسرے قبیلہ کو غصہ آگیا۔چنانچہ سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے سعد بن معاذ سے کہا کہ تم ہمارے آدمی کو نہیں مار سکتے اور نہ تمہاری طاقت ہے کہ ایسا کر سکو۔اس مکالمے میں دوسرے صحابی بھی اٹھے اور انہوں نے کہا کہ ہم اسے مار ڈالیں گے اور دیکھیں گے کون اسے بچاتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ اب بجائے اس کے کہ یہ مقابلہ باتوں تک ہی رہتا اوس اور خزرج نے میانوں سے تلواریں نکالنی شروع کر دیں کہ با قاعدہ جنگ ہونے لگی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی مشکل سے ان کو ٹھنڈا کیا۔اوس کہتے تھے کہ جس شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ دیا ہے اس کو ہم مار ڈالیں گے اور خزرج کہتے تھے کہ تم یہ بات اخلاص سے نہیں کرتے۔چونکہ تم جانتے ہو کہ وہ ہم میں سے ہے اس لئے یہ بات کہتے ہو۔بہر حال یہ بات بھی ثابت ہے کہ ان دونوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بھی تھی مگر شیطان نے ان میں فتنہ پیدا کر دیا۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ اس وقت کی حالت کے متعلق ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ کیسی دردناک حالت ہو گی۔ادھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنی ایذاء پہنچ رہی تھی اور ادھر مسلمانوں میں تلوار چلنے تک نوبت پہنچی ہوئی تھی۔تو شیطان بعض دفعہ نیکوں میں بھی یہ حالت کر دیتا ہے۔بہر حال پھر آگے حضرت مصلح موعودؓ وہی واقعہ بیان کرتے ہیں جو حضرت عائشہ نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت عائشہ سے یہ سارا واقعہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اگر میں مانوں گی تو جھوٹ کہوں گی۔اگر اپنے آپ کو بری ثابت کروں گی تو آپ لوگ یقین نہیں کریں گے۔اس وقت میں وہی کہتی ہوں جو حضرت یوسف کے باپ حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا تھا کہ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ (یوسف:19) کہ اچھی طرح صبر کرنا ہی میرے لئے مناسب ہے اور اس بات کے لئے اللہ تعالیٰ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے اور مانگی جاتی ہے۔بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے یہ کہا کہ وہاں سے اٹھ کر میں اپنے بستر پہ آگئی۔اس پر پھر یہ آیت نازل ہوئی جو میں نے ابھی پہلے پڑھی ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے خطر ناک جھوٹ بولا ہے وہ تمہی میں سے ایک گروہ ہے مگر تم اس کے اس الزام کو اپنے لئے کسی خرابی کا موجب نہ سمجھو بلکہ خیر کا موجب سمجھو کیونکہ اس الزام کی وجہ سے جھوٹا الزام لگانے والوں کی سزاؤں کا جلدی ذکر ہو گیا اور تمہیں ایک پر حکمت تعلیم مل گئی۔اور یقینا اس میں سے ہر شخص اپنے اپنے گناہ کے مطابق سزا پائے گا اور جو شخص اس گناہ کے بڑے حصہ کا ذمہ دار ہے اس کو بہت بڑا عذاب ملے گا۔بہر حال اس وحی کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ روشن ہوا اور اس وقت حضرت عائشہ کہتی ہیں میری والدہ نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شکر کرو تو میں نے یہی کہا کہ میں تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں گی۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 269 271) بہر حال جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے بھی ایک جگہ ایک خطبہ میں یہ بیان