خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 611
خطبات مسرور جلد 16 611 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2018 بہر حال اس آیت کی تفسیر میں جو سارا واقعہ بیان کیا ہے اور پھر آپ نے یہ لکھا کہ جب مدینہ پہنچے تو عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں نے مشہور کر دیا کہ حضرت عائشہ نعوذ باللہ جان بوجھ کر پیچھے رہی تھیں اور ان کو صفوان سے تعلق تھا، جو بعد میں اونٹ لے کے آئے تھے۔لکھتے ہیں کہ یہ شور اتنابڑھا کہ بعض صحابہ بھی نادانی سے ان کے ساتھ مل گئے جن میں سے ایک حسان بن ثابت ہیں اور دوسرے مسطح بن اثاثہ۔اسی طرح ایک صحابیہ حمنہ بنت جحش بھی تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی تھیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو چونکہ اس حادثے سے صدمہ سخت ہوا تھا اور وہ چھوٹی عمر میں ایک ایسے جنگل میں تن تنہا رہ گئی تھیں جہاں ہو کا عالم تھا اور مدینہ پہنچ کر اس صدمہ سے بیمار ہو گئیں۔تنہائی کا جو ایک خوف تھا، ایک ڈر تھا حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ یہ بھی بیماری کی وجہ ہے۔ادھر ان کے متعلق منافقین میں کھچڑی پکتی رہی۔آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں پہنچ گئیں۔آپ حضرت عائشہ کی بیماری کو دیکھ کر ان سے دریافت نہیں فرما سکتے تھے۔پوچھا بھی نہیں کہ منافقین کیا باتیں کر رہے ہیں ؟ ادھر دن بدن باتیں زیادہ بڑھتی جاتی تھیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں یہ دیکھ کر حیران ہوتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لاتے تو آپ کا چہرہ اتر ہو اہو تا تھا اور مجھ سے بات نہیں کرتے تھے۔کہتی ہیں بڑا پریشان چہرہ ہوتا تھا اور دوسروں سے میرا حال پوچھ کے چلے جاتے تھے۔کہتی ہیں میں آپ کی اجازت سے ایک دن اپنے والدین کے ہاں چلی گئی اور پھر وہی قضائے حاجت والا واقعہ ہوا۔جو ر شتہ دار تھیں ان کے ساتھ باہر جاتی تھیں اُس نے اپنے بیٹے مسطح کا نام لے کر کہا کہ اس کا براہو۔حضرت عائشہ نے اس پر کہا کہ ایسا کیوں کہتی ہو ؟ اس نے کہا کہ ایسا کیوں نہ کہوں۔تمہیں پتہ نہیں کہ وہ تو اس قسم کی باتیں کرتا ہے۔تو حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے وہ عورت کوئی موقع نکالنا چاہتی تھی کہ بات کہے۔حضرت عائشہ کو بات بتائے کہ آپ پہ کیا الزام لگ رہے ہیں کیونکہ ان کو پتہ نہیں تھا۔جب حضرت عائشہ نے یہ بات سنی تو انہیں بڑا سخت صدمہ ہوا۔واپس آگئیں اور جیسا کہ پہلے انہوں نے ذکر کیا ہے کہ مجھے بڑی نقاہت تھی۔جوں توں کر کے گھر تک پہنچیں مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بیماری پھر زور پکڑ گئی۔بہر حال پھر آپ آگے واقعہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ اور اسامہ بن زید کو بلا کر مشورہ لیا کہ کیا کرنا چاہئے۔حضرت عمر اور اسامہ بن زید دونوں نے کہا کہ یہ منافقوں کی پھیلائی ہوئی بات ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں لیکن حضرت علی کی طبیعت تیز تھی۔انہوں نے کہا کہ بات کوئی ہو یا نہ ہو۔آپ کو ایسی عورت سے جس پر اتہام لگ چکا ہے تعلق رکھنے کی کیا ضرورت ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا جیسا کہ بیان ہوا ہے کہ آپ اُن کی لونڈی سے پوچھ لیں۔اگر کوئی بات ہوئی تو وہ بتادے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کی لونڈی بریرہ سے پوچھا کیا تجھے عائشہ کا کوئی عیب معلوم ہے ؟ اس نے کہا عائشہ کا سوائے اس کے اور کوئی عیب نہیں کہ کم سنی کی وجہ سے وہ سو جاتی ہیں۔جلدی نیند کا غلبہ آجاتا ہے اور پھر گہری نیند آتی ہے اور وہی واقعہ بیان کیا۔بہر حال کہتے ہیں پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔صحابہ کو جمع کیا اور پھر فرمایا کہ کوئی ہے جو مجھے اس شخص سے بچائے جس نے مجھے دکھ دیا ہے۔اس سے مراد آپ کی عبد اللہ بن اُبی بن