خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 53
خطبات مسرور جلد 16 53 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 فروری 2018 رشتہ داروں اور ہمسایوں کو بھی ایسا نمونہ بن کر دکھاوے کہ وہ بول اٹھیں کہ اب یہ وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔" فرمایا خوب یاد رکھو کہ صاف ہو کر عمل کرو گے تو دوسروں پر تمہار ا ضرور رعب پڑے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا بڑار عب تھا۔ایک دفعہ کافروں کو شک پیدا ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بد دعا کریں گے تو وہ سب کافر مل کر آئے اور عرض کی کہ حضور بد دعانہ کریں۔بچے آدمی کا ضرور رعب ہو تا ہے۔چاہئے کہ بالکل صاف ہو کر عمل کیا جاوے اور خدا کے لئے کیا جاوے۔تب ضرور تمہارا دوسروں پر بھی اثر اور رعب پڑے گا۔" ( ملفوظات جلد 9 صفحہ 372 تا 374) پس استغفار کرنے اور اس کی روح کو سمجھنے کا ادراک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ذکر اذکار ، دعائیں اس وقت کام آتی ہیں جب ساتھ ساتھ عملی حالت بھی بہتر کرنے کی کوشش ہو۔لوگ کہتے ہیں کوئی چھوٹی سی دعا بتا دیں ہم پڑھتے رہیں۔چھوٹی سی دعائیں بھی تب فائدہ دیتی ہیں جب فرائض بھی ادا ہو رہے ہوں۔نماز پڑھیں۔نمازیں بھی وقت پر اداہور ہی ہوں اور پابندی سے ادا ہور ہی ہوں اور شوق سے ادا ہو رہی ہوں تو تبھی ذکر بھی کام آئیں گے۔پھر یہاں اللہ تعالیٰ کی صفت بیان فرمائی کہ وہ قَابِلِ الثَّوْبِ ہے۔کہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔تو بہ کے معنی ہیں۔اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا۔پس جب انسان اس عہد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کہ میں آئندہ سے گناہ نہیں کروں گا اور ہمیشہ گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا رہوں گا تو اللہ تعالیٰ پھر اس جذبے اور ارادے سے اپنی طرف آنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کو بھی ایک جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے۔کہ فرمایا: " وہ دن کو نسا ن ہے جو جمعہ اور عیدین سے بھی بہتر اور مبارک دن ہے ؟ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ دن انسان کی توبہ کا دن ہے جو ان سب سے بہتر ہے اور ہر عید سے بڑھ کر ہے۔کیوں ؟ اس لیے کہ اس دن وہ بد اعمال نامہ جو انسان کو جہنم کے قریب کرتا جاتا ہے اور اندر ہی اندر غضب الہی کے نیچے اسے لا رہا تھا دھو دیا جاتا ہے اور اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔حقیقت میں اس سے بڑھ کر انسان کے لیے اور کو نسا خوشی اور عید کا دن ہو گا جو اسے ابدی جہنم اور ابدی غضب الہی سے نجات دیدے۔تو بہ کرنے والا گنہگار جو پہلے خدا تعالیٰ سے دُور اور اس کے غضب کا نشانہ بنا ہوا تھا اب اس کے فضل سے اس کے قریب ہوتا اور جہنم اور عذاب سے دور کیا جاتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرما یا ان اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرة: 223) بیشک اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور ان لوگوں سے جو پاکیزگی کے خواہاں ہیں پیار کرتا ہے۔اس آیت سے نہ صرف یہی پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں کو اپنا محبوب بنالیتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی تو بہ کے ساتھ حقیقی پاکیزگی اور طہارت شرط ہے۔" حقیقی تو بہ وہی ہے جس کے ساتھ حقیقی پاکیزگی بھی ہو۔ارادہ انسان پکا کرے کہ میں نے آئندہ سے گناہ نہیں کرنا۔پس جب یہ ہو گا، پاکیزگی اور طہارت ہو گی تو تبھی تو بہ بھی قبول ہو گی۔فرمایا کہ " ہر قسم کی نجاست اور گندگی سے الگ ہو ناضروری شرط ہے ورنہ نری تو بہ اور لفظ کے تکرار سے تو کچھ فائدہ نہیں ہے۔پس جو دن ایسا مبارک دن ہو کہ انسان اپنی بد کر توتوں سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا عہد صلح باندھ لے اور اس کے