خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 610
خطبات مسرور جلد 16 610 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2018 وجہ سے بچائے رکھا اور ان کی بہن حمنہ بنت جحش اُن کی طرفداری کر رہی تھی اور ہلاک ہو گئی یعنی جن لوگوں نے الزام لگایا تھا اُن کی طرفداری کر رہی تھی اور ان لوگوں کے ساتھ تھی جو ہلاک ہوئے۔(ماخوذ از صحیح البخاری کتاب الشهادات باب تعديل النساء۔۔۔الخ حدیث 2661 جلد 4 صفحہ 721 تا731 شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ) (ماخوذ از صحیح البخاری کتاب المغازی باب حدیث الا فک حدیث 4141 جلد 8 صفحہ 325 شائع کر وہ نظارت اشاعت ربوہ) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں یہ واقعہ بیان فرمایا ہے جو میں پہلے بخاری کے حوالے سے بیان کر چکا ہوں۔زائد بات جو انہوں نے اس میں لکھی ہے وہ یہ ہے کہ یہ جب کہتی ہیں کہ ان صحابی نے إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ پڑھا تو میں جاگ اٹھی تو میں نے اس وقت دیکھتے ہی جھٹ اپنا منہ اپنی اوڑھنی سے ڈھانک لیا کیونکہ پردے کا حکم جاری ہو چکا تھا اور خدا کی قسم ! اس نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی۔انہوں نے بات بھی کوئی نہیں کی اور نہ میں نے اس کلمہ کے سوا ان کے منہ سے کوئی اور الفاظ سنے یعنی إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ کے سوا۔اس کے بعد وہ اپنے اونٹ کو آگے لایا اور میرے قریب اسے بٹھا دیا اور اس نے اونٹ کے دونوں گھٹنوں پر اپنا پاؤں رکھ دیا تا کہ وہ اچانک نہ اٹھ سکے۔چنانچہ میں اونٹ کے اوپر سوار ہو گئی۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 563) انہوں نے اونٹ کے آگے گھٹنوں پر پاؤں بھی رکھ دیا تا کہ اونٹ ایک دم نہ اٹھ جائے۔جیسا کہ حضرت عائشہ نے بیان فرمایا ہے کہ میرے بارے میں خدا تعالیٰ کی وحی کی میرے لئے بڑی اہمیت تھی۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میرے لئے تو اس وحی کی بڑی اہمیت تھی کیونکہ مجھے اس کی توقع نہیں تھی۔بہر حال یہ ایک اہم واقعہ تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل پر ایک بہت بڑا الزام لگایا گیا تھا۔حضرت عائشہ کا ایک خاص مقام تھا اور یہ مقام اس وجہ سے بھی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وحی بھی مجھے سب سے زیادہ عائشہ کے حجرے میں ہی ہوتی ہے۔(صحیح البخاری کتاب فضائل اصحاب النبی اللہ باب فضل عائشة 3775) اور سورہ نور میں ان الزام لگانے والوں کے بارے میں مومنوں کا جو رڈ عمل ہونا چاہئے اس کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کیا ہونا چاہئے۔اس بارے میں مکمل دس گیارہ آیتیں ہیں۔بہر حال حضرت عائشہ نے جس آیت کا حوالہ دیا ہے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے اس واقعہ کے علاوہ جو حدیث کے حوالے سے میں بیان کر چکا ہوں حضرت مصلح موعودؓ نے جو زائد باتیں بیان فرمائی ہیں وہ بیان کرتا ہوں۔اول پہلے تو آیت پڑھ دوں۔آیت یہ ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ لِكُلِّ امْرِى مِّنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِى تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ - (النور: 12) یعنی یقیناً وہ لوگ جو جھوٹ گھڑ لائے انہی میں سے ایک گروہ ہے۔اس معاملہ کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ان میں سے ہر شخص کے لئے ہے جو اس نے گناہ کمایا جبکہ ان میں سے وہ اس کے بیشتر کے ذمہ دار ہیں اس کے لئے بہت بڑا عذاب مقدر ہے۔اس کے آگے پھر مزید آیتیں بھی ہیں۔بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے۔