خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 609
خطبات مسرور جلد 16 609 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2018 طرف ہٹ کر اپنے بستر پر آگئی اور میں امید کرتی تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے بری کرے گا۔وہ جانتی تھیں میں بے گناہ ہوں اللہ تعالیٰ بری کرے گا لیکن کہتی ہیں کہ بخدا مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ میرے متعلق بھی کوئی وحی نازل ہو گی۔یہ تو خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ بری کر دے گا لیکن یہ خیال نہیں تھا کہ اس حد تک، یہاں تک ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ میری بریت کے بارہ میں وحی نازل کرے بلکہ میں اپنے خیال میں اس سے بہت ادنی تھی کہ میری نسبت قرآن کریم میں بیان کیا جائے۔میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں بجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں میرے بارے میں کوئی وحی کرے لیکن مجھے یہ امید ضرور تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند میں کوئی ایسی خواب دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بری قرار دیتا ہے۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اللہ کی قسم! آپ ابھی بیٹھنے کی جگہ سے الگ نہیں ہوئے تھے اور نہ اہل بیت میں سے کوئی باہر گیا تھا کہ اتنے میں آپ پر وحی نازل ہوئی اور وحی کے دوران جو سخت تکلیف آپ کو ہوا کرتی تھی وہ آپ کو ہونے لگی۔آپ کو اتنا پسینہ آتا تھا کہ سردی کے دن میں بھی آپ سے پسینہ موتیوں کی طرح ٹپکتا تھا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی حالت جاتی رہی تو آپ مسکرارہے تھے اور پہلی بات جو آپ نے فرمائی یہ تھی کہ عائشہ ! اللہ کا شکر بجالاؤ کیونکہ اللہ نے تمہاری بریت کر دی ہے۔کہتی ہیں اس پر میری ماں نے مجھ سے کہا اٹھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔میں نے کہا اللہ کی قسم! ہر گز نہیں۔میں ان کے پاس اٹھ کر نہیں جاؤں گی اور اللہ کے سوا کسی کا شکریہ ادا نہیں کروں گی۔اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کی تھی۔وہ لوگ یعنی کہ جنہوں نے بہتان باندھا ہے وہ تم ہی میں سے ایک جتھا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے میری بریت میں یہ وحی نازل کی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اور وہ مسطح بن اثاثہ کو بوجہ اس کے قریبی ہونے کے خرچ دیا کرتے تھے کہ اللہ کی قسم! جو مسطح نے عائشہ پر افتراء کیا ہے میں اس کے بعد اب اس کو کوئی خرچ نہیں دوں گا۔مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا یعنی سورہ نور کی وہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔یہ آیت میں نے پڑھ دی ہے اور اس کا ترجمہ بھی پڑھ دیا ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم میں سے صاحب فضیلت اور صاحب توفیق اپنے قریبیوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے کی قسم نہ کھائیں۔پس چاہئے کہ وہ معاف کر دیں اور در گزر کریں۔کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔حضرت ابو بکر کہنے لگے کہ کیوں نہیں۔اللہ کی قسم میں ضرور چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کی پردہ پوشی کرتے ہوئے مجھے بخش دے۔مسطح کو جو خوراک وہ دیا کرتے تھے پھر ملنے لگی۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحش سے بھی میرے معاملے کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بینب! تم کیا سمجھتی ہو جو تم نے دیکھا ہے۔وہ کہتیں یا رسول اللہ میں اپنی شنوائی اور بینائی محفوظ رکھوں گی۔میں تو عائشہ کو (یعنی کہ میں کبھی یہ نہیں کہہ سکتی ) پاکدامن ہی سمجھا ہے۔اپنے کانوں کو اور آنکھوں کو میں محفوظ سمجھتی ہوں اور ہمیشہ محفوظ رکھوں گی۔میں غلط باتیں نہیں کہہ سکتی۔کہتی ہیں میں نے تو عائشہ کو پا کد امن ہی دیکھا ہے اور پاکدامن ہی سمجھتی بھی ہوں۔حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ یہی زینب وہ تھیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے میری برابری کیا کرتی تھیں۔اللہ نے انہیں پر ہیز گاری کی