خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 608
خطبات مسرور جلد 16 608 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2018 اندر آنے کی اجازت چاہی۔میں نے اسے اجازت دے دی۔وہ بھی بیٹھ کر میرے ساتھ رونے لگی۔ہم اسی حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر کے گھر میں اندر آئے اور بیٹھ گئے۔اور اس سے پہلے جس دن سے مجھ پر تہمت لگائی گئی تھی آپ میرے پاس نہیں بیٹھے تھے۔دور سے حال پوچھ کر چلے جایا کرتے تھے یا ملازمہ سے حال پوچھ کے چلے جایا کرتے تھے اور جب گھر آگئی ہیں تو وہاں پوچھتے تھے۔بہر حال اُس دن آئے اور کہتی ہیں میرے پاس بیٹھے اور آپ ایک مہینہ منتظر رہے۔مگر میرے متعلق آپ کو کوئی وحی نہ ہوئی۔جس دن سے یہ الزام لگا تھا مہینہ گزر گیا تقریباً اور آپ میرے پاس بیٹھے نہیں تھے لیکن اس دن آکر بیٹھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس انتظار میں تھے کہ اللہ تعالیٰ کچھ بتادے گا۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ آپ نے تشہد پڑھا پھر آپ نے مجھے فرمایا کہ عائشہ ! مجھے تمہارے متعلق یہ بات پہنچی ہے۔پہلی دفعہ یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے کی۔سو اگر تم بڑی ہو تو ضرور اللہ تعالیٰ تمہیں بری فرمائے گا اور اگر تم سے کوئی کمزوری ہو گئی ہے تو اللہ سے مغفرت مانگو اور اس کے حضور توبہ کرو کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہے اور اس کے بعد توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحم کرتا ہے۔کہتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات ختم کر لی تو پہلے چونکہ میں بہت رو رہی تھی میرے آنسو خشک ہو گئے۔یہاں تک کہ آنسوؤں کا ایک قطرہ بھی محسوس نہ ہوا۔میں نے اپنے باپ سے کہا۔اس وقت حضرت عائشہ نے حضرت ابو بکر کو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری طرف سے جواب دیجئے۔انہوں نے کہا بخدا میں نہیں جانتا کہ میں رسول اللہ سے کیا کہوں۔کیا بات کروں۔کیا جواب دوں۔یہی چاہتی ہوں گی ناں کہ میری بریت کا جواب دیں۔پھر میں نے اپنی ماں سے کہا۔آپ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو آپ نے فرمایا ہے اس کا میری طرف سے جواب دیں۔انہوں نے کہا بخدا میں نہیں جانتی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہوں۔حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ میں کم عمر لڑکی تھی۔قرآن مجید کا اس وقت مجھے زیادہ علم نہیں تھا۔بہر حال میں نے اس کے باوجود اس وقت کہا کہ بخدا مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ آپ لوگوں نے وہ بات سنی ہے جس کا لوگ آپس میں تذکرہ کرتے ہیں۔یعنی یہ جو مجھ پر بڑا گندا الزام لگایا گیا ہے ، وہ بات آپ کے دلوں میں بیٹھ گئی ہے۔اور آپ نے اسے درست سمجھ لیا ہے۔بلکہ یہ کہتی ہیں میں نے کہا کہ آپ نے شاید سمجھ لیا ہے کہ یہ درست ہے۔اور اگر میں آپ سے کہوں کہ میں بری ہوں۔میں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور اللہ جانتا ہے کہ میں فی الواقعہ بری ہوں تو آپ مجھے اس میں سچا نہیں سمجھیں گے کیونکہ اتنا مشہور ہو چکا ہے اور لوگ اتنی زیادہ باتیں کر رہے ہیں کہ شاید یہ ہو جائے کہ میں سچی نہیں ہوں۔اور اگر میں آپ کے پاس کسی بات کا اقرار کر لوں حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ میں بری ہوں اور میں نے ایسی کوئی غلط حرکت نہیں کی تو آپ اس اقرار پر مجھے سچا سمجھ لیں گے۔اگر اقرار کر لوں تو آپ سچا سمجھ لیں کہ ہاں شاید بات ٹھیک ہی ہو گی۔کہتی ہیں کہ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں اپنی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی مثال نہیں پاتی سوائے یوسف کے باپ کی۔انہوں نے کہا تھا کہ صبر کرناہی اچھا ہے اور اللہ ہی سے مدد مانگنی چاہئے۔حضرت یعقوب نے یوسف کے بھائیوں کو جو کہا تھا کہ اللہ ہی سے اس بات میں مدد مانگنی چاہئے جو تم لوگ بیان کر رہے ہو۔کہتی ہیں میں نے یہ آیت پڑھ دی۔اس کے بعد میں ایک