خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 607 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 607

خطبات مسرور جلد 16 607 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2018 طالب نے کہا کہ یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر کچھ تنگی نہیں رکھی۔حضرت علی ذرا تیز طبیعت کے تھے۔اس لئے انہوں نے یہ مشورہ دیا کہ آپ پر کبھی تنگی نہیں رکھی اور اس کے سوا اور عور تیں بھی بہت ہیں۔پھر حضرت علی نے یہ کہا کہ اس خادمہ سے پوچھئے۔جو حضرت عائشہ کی خادمہ تھیں۔ان سے پوچھیں کہ کیسی ہیں۔(وہ) آپ سے سچ سچ کہہ دے گی۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو بلایا۔وہ خادمہ تھیں اور آپ نے کہا بریرہ! کیا تم نے اس میں یعنی حضرت عائشہ میں کوئی ایسی بات دیکھی ہے جو تمہیں شبہ میں ڈالے؟ بریرہ نے کہا کہ ہر گز نہیں۔اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ میں نے حضرت عائشہ میں اس سے زیادہ کوئی اور بات نہیں دیکھی جس کو میں ان کے لئے معیوب سمجھوں کہ وہ کم عمر لڑکی ہے۔یعنی آٹا چھوڑ کر سو جاتی ہے۔ذرا بے پرواہی ہے اور اتنی گہری نیند اُن کو آتی ہے کہ گھر کی بکری آتی ہے اور وہ اسے کھا جاتی ہے۔ان کی یہ ایک مثال دے کے بتایا کہ کوئی برائی تو نہیں ہے لیکن یہ کمزوری ہے۔نیند غالب آجاتی ہے۔یہ سن کر اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب فرمایا اور عبد اللہ بن اُبی بن سکول کی شکایت کی کیونکہ اسی نے مشہور کیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسے شخص کو کون سنبھالے جس نے میری بیوی کے بارے میں مجھے دکھ دیا ہے۔میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اپنی بیوی میں سوائے بھلائی کے اور کوئی بات مجھے معلوم نہیں اور ان لوگوں نے ایسے شخص کا ذکر کیا ہے جس کی بابت بھی مجھے بھلائی کے سوا کوئی علم نہیں۔یعنی کہ حضرت عائشہ کے بارے میں جس پر الزام لگایا ہے اور میرے گھر والوں کے پاس جب بھی وہ آیا کرتے میرے ساتھ ہی آتے۔اس پر حضرت سعد بن مُعاذ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! بخدا میں اس سے آپ کا بدلہ لوں گا جس نے یہ الزام لگایا ہے۔اگر وہ اوس کا ہوا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔اگر وہ ہمارے بھائیوں خزرج سے ہوا تو جو بھی آپ ہمیں حکم دیں گے ہم آپ کا حکم بجالائیں گے۔اس پر سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے اور وہ خزرج قبیلہ کے سردار تھے اور اس سے پہلے وہ اچھے آدمی تھے لیکن قومی عزت نے انہیں بھڑ کا یا اور انہوں نے کہا تم نے غلط کہا۔اللہ کی قسم! تم اسے نہیں مارو گے اور نہ ایسا کر سکو گے۔بحث شروع ہو گئی۔اس پر اُسید بن حضیر کھڑے ہو گئے۔تیسرا شخص بھی کھڑا ہو گیا اور انہوں نے کہا کہ تم نے غلط کہا ہے۔اللہ کی قسم! اللہ کی قسم! ہم اسے ضرور مارڈالیں گے جس نے بھی الزام لگایا ہے۔اور پھر یہاں تک کہہ دیا کہ تو تو منافق ہے جو منافقوں کی طرف سے جھگڑتا ہے۔اس پر دونوں قبیلے اوس اور خزرج بھڑک اٹھے۔آپس میں غصہ میں آگئے، طیش میں آگئے۔یہاں تک کہ لڑائی شروع ہو گئی۔شروع تو نہیں ہوئی لیکن لڑنے کے قریب تھے ، کہتے ہیں لڑنے پر آمادہ ہو گئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے تھے آپ اترے اور ان کو ٹھنڈا کیا یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاموش ہو رہے۔حضرت عائشہ کہتی ہیں ، یہ روایت چل رہی ہے۔بخاری کی لمبی روایت ہے کہ میں سارا دن روتی رہی۔نہ میرے آنسو تھمتے اور نہ مجھے نیند آتی۔میرے ماں باپ میرے پاس آگئے۔میں دورا تیں اور ایک دن اتناروئی کہ میں سمجھی کہ یہ رونا میرے جگر کو شق کر دے گا۔میں ختم ہو جاؤں گی۔کہتی تھیں کہ اسی اثناء میں کہ وہ دونوں میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے یعنی ماں باپ بیٹھے ہوئے تھے اور میں رور ہی تھی کہ اتنے میں ایک انصاری عورت نے