خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 606
خطبات مسرور جلد 16 606 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2018 تھی وہ یہ تھی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ مہربانی نہیں دیکھتی تھی جو میں آپ سے اپنی بیماری میں دیکھا کرتی تھی۔بڑا چرچا ہو گیا۔تہمت لگائی۔مشہوری ہو گئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی باتیں پہنچیں۔کہتی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیماری میں جو سلوک میرے ساتھ پہلے ہوا کرتا تھا وہ مجھے نظر نہیں آتا تھا۔آپ صرف اندر آتے اور السلام علیکم کہتے۔پھر پوچھتے کہ اب وہ کیسی ہے۔اور وہ بھی ان کے والدین سے پوچھ لیتے۔کہتی ہیں کہ مجھے اس تہمت کا کچھ بھی علم نہ تھا یہاں تک کہ جب میں نے بیماری سے شفا پائی۔اور نقاہت کی حالت میں تھی کہ میں اور ام مسطح مناصبغ کی طرف گئیں جو قضائے حاجت کی جگہ تھی۔ہم رات کو ہی نکلا کرتے تھے اور یہ اس وقت سے پہلے کی بات ہے جب ہم نے اپنے گھروں میں، گھروں کے قریب بیوت الخلاء بنائے تھے۔اس زمانے میں رفع حاجت کے لئے لوگ باہر جایا کرتے تھے اور عور تیں رات کو جب اندھیرا پھیل جائے نکلا کرتی تھیں۔کہتی ہیں اس سے قبل ہماری حالت پہلے عربوں کی سی تھی کہ جنگل میں یا باہر جا کر قضائے حاجت کیا کرتے تھے۔میں اور ام مسطح بنت ابی رھم دونوں جارہی تھیں کہ اتنے میں وہ اپنی اوڑھنی سے انکی اور ٹھوکر کھائی۔تب بولی کہ مسطح بد نصیب ہو۔میں نے اس سے کہا کہ کیا بری بات کی ہے تم نے۔کیا تو ایسے شخص کو برا کہ رہی ہے جو جنگ بدر میں موجود تھا۔اس نے کہا کہ اری بھولی بھالی لڑکی! کیا تم نے نہیں سنا جو لوگوں نے افترا کیا ہے ؟ تب اس نے مجھے تہمت لگانے والوں کی بات سنائی کہ یہ الزام تمہارے پر لگایا گیا ہے۔کہتی ہیں میں بیماری سے ابھی اٹھی تھی، نقاہت تو تھی ہی۔یہ بات سن کے میری بیماری بڑھ گئی۔جب اپنے گھر لوٹی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے۔آپ نے السلام علیکم کہا اور آپ نے پوچھا اب تم کیسی ہو ؟ میں نے کہا: مجھے اپنے والدین کے پاس جانے کی اجازت دیں۔کہتی تھیں کہ میں اُس وقت یہ چاہتی تھی کہ میں ان کے پاس جا کر اس کی نسبت معلوم کروں یعنی یہ الزام جو لگا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔میں اپنے والدین کے پاس آئی تو میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں ! میری ماں نے کہا کہ بیٹی اس بات سے اپنی جان کو جنجال میں نہ ڈالو۔ہلکان نہ کرو۔اطمینان سے رہو۔اللہ کی قسم! کم ہی ایسا ہوا ہے کہ کبھی کسی شخص کے پاس کوئی خوبصورت عورت ہو ، اس کی بیوی ہو جس سے وہ محبت بھی رکھے اور اس کی سو کنیں بھی ہوں اور پھر لوگ اس کے بر خلاف باتیں نہ کریں۔حضرت عائشہ کہتی ہیں۔میں نے اس پر کہا کہ سبحان اللہ۔لوگ ایسی بات کا چرچا کر رہے ہیں۔پھر کہتی ہیں کہ میں نے وہ رات اس طرح کائی کہ صبح تک میرے آنسو نہیں تھے۔اتنا بڑا الزام مجھ پر لگایا ہے۔ساری رات مجھے نیند نہیں آئی اور میں روتی رہی۔جب صبح اٹھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب اور اسامہ بن زید کو بلایا۔اس وقت جب وحی کے آنے میں دیر ہوئی تا ان دونوں سے اپنی بیوی کو چھوڑنے کے بارے میں مشورہ کریں۔یعنی یہ فیصلہ کہ اس طرح جو الزام لگایا ہے اس کے بعد آیا ان کو رکھوں نہ رکھوں ؟ اسامہ نے تو آپ کو اس محبت کی بنا پر مشورہ دیا جو ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے تھی۔اسامہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ کی بیوی ہیں اور ہم اللہ کی قسم ! سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں جانتے۔ہم نے تو کوئی عیب نہیں دیکھا۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ لیکن علی بن ابی