خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 605
خطبات مسرور جلد 16 605 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14دسمبر 2018 نکلنے کا ارادہ فرماتے تو آپ اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے۔پھر جس کا قرعہ نکلتا آپ اس کو اپنے ساتھ لے جاتے۔چنانچہ آپ نے ایک حملے کے وقت جو آپ نے کیا ہمارے درمیان قرعہ ڈالا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میرا قرعہ نکالا۔میں آپ کے ساتھ گئی۔اس وقت حجاب کا حکم اتر چکا تھا، پردے کا حکم آگیا تھا۔میں ہو دج میں بٹھائی جاتی ( ہودج جو اونٹ کے اوپر سواری کی جگہ بنائی جاتی ہے۔covered ہوتی ہے ) اور ہو دج سمیت اتاری جاتی۔کہتی ہیں کہ ہم اسی طرح سفر میں رہے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس حملے سے فارغ ہوئے اور واپس آئے اور ہم مدینہ کے قریب ہی تھے کہ ایک رات آپ نے کوچ کا حکم دیا۔جب لوگوں نے کوچ کرنے کا اعلان کیا تو میں بھی چل پڑی اور فوج سے آگے نکل گئی۔کہتی ہیں میں پیدل ہی چل پڑی۔کیونکہ رفع حاجت کے لئے جانا تھا تو ایک طرف ہو کے چلی گئیں جب میں اپنی حاجت سے فارغ ہوئی، تو اپنے ہو درج کی طرف آئی اور میں نے اپنے سینے کو ہاتھ لگایا تو کیا دیکھتی ہوں کہ ظفار کے کالے نگینوں کا میر اہار گر گیا ہے۔ایک بار پہنا ہوا تھا وہ گر گیا ہے۔کہتی ہیں میں اپنا ہار ڈھونڈنے کے لئے واپس لوٹی اور اس کی تلاش نے مجھے روکے رکھا تو کچھ وقت لگ گیا۔اتنے میں وہ لوگ جو میرے اونٹ کو تیار کرتے تھے ، آئے اور انہوں نے میر اہو دج اٹھا لیا اور وہ ہو دج میرے اونٹ پر رکھ دیا جس پر میں سوار ہو ا کرتی تھی۔وہ خالی تھا۔لیکن وہ سمجھے کہ میں اسی میں ہوں۔کہتی ہیں کہ عورتیں ان دنوں میں ہلکی پھلکی ہوا کرتی تھیں۔بھاری بھر کم نہ تھیں۔ان کے بدن پر زیادہ گوشت نہ ہو تا تھا۔وہ تھوڑا سا تو کھانا کھایا کرتی تھیں۔لوگوں نے جب ہو رج کو اٹھایا تو اس کے بوجھ کو غیر معمولی نہ سمجھے۔یہ احساس نہیں ہوا کہ یہ ہلکا ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے اس کو اٹھالیا اور میں کم عمر لڑکی تھی۔انہوں نے اونٹ کو بھی اٹھا کر چلا دیا اور خود بھی چل پڑے۔جب سارا لشکر گزر چکا اور اس کے بعد میں نے اپنا ہار بھی ڈھونڈ لیا تو میں ڈیرے پر واپس آئی۔وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔پھر میں اپنے اس ڈیرے کی طرف گئی جس میں میں تھی اور میں نے خیال کیا کہ وہ مجھے نہ پائیں گے تو یہیں واپس لوٹ آئیں گے۔کہتی ہیں میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اسی اثناء میں میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گئی۔لمعلن سلیمی ذکوانی فوج کے پیچھے رہا کرتے تھے۔ایک آدمی پیچھے ہو تا تھا تا کہ دیکھ لے کہ قافلہ چلا گیا ہے تو کوئی چیز پیچھے تو نہیں رہ گئی۔کہتی ہیں وہ صبح میرے ڈیرے پر آئے اور انہوں نے ایک سوئے ہوئے انسان کا وجود دیکھا اور میرے پاس آئے۔اور حجاب کے حکم سے پہلے انہوں نے مجھے دیکھا ہوا تھا۔واپس آئے تو انہوں نے انا للہ پڑھا۔ان کے انا للہ پڑھنے پر میں جاگ اٹھی۔اس کے بعد پہلے اونٹنی قریب لے آئے، اور جب انہوں نے اپنی اونٹنی بٹھائی تو میں اس پر سوار ہو گئی اور وہ اونٹنی کی نکیل پکڑ کر چل پڑے۔کہتی ہیں : یہاں تک کہ ہم فوج میں اس وقت پہنچے جب لوگ ٹھیک دو پہر کے وقت آرام کرنے کے لئے ڈیروں میں تھے۔پھر جس کو ہلاک ہونا تھا ہلاک ہو گیا۔یعنی اس بات پر بعض لوگوں نے الزام لگانے شروع کر دئے۔غلط قسم کی باتیں حضرت عائشہ کی طرف منسوب کر دیں۔صفوان بن فرماتی ہیں اس تہمت کا بانی عبد اللہ بن اُبی بن سکول تھا۔ہم مدینہ پہنچے۔میں وہاں ایک ماہ تک بیمار رہی۔تہمت لگانے والوں کی باتوں کا لوگ چرچا کرتے رہے اور میری اس بیماری کے اثناء میں جو بات مجھے شک میں ڈالتی