خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 604
خطبات مسرور جلد 16 604 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2018 کہ اللہ تمہیں بخش دے اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔بہر حال یہ آیت نازل ہوئی۔اس پر حضرت ابو بکر نے دوبارہ ان کا نان و نفقہ جاری فرما دیا اور جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ کی بریت نازل فرما دی تو پھر بہتان لگانے والوں کو سزا بھی دی گئی۔بعض روایات کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ پر الزام لگانے والے جن اصحاب کو کوڑے لگوائے تھے ان میں حضرت مسطح بھی شامل تھے۔(الاصابه جلد 6 صفحه 74 مسطح بن اثاثه مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) یہ افک کا الزام لگانے کا جو واقعہ ہے یہ کیونکہ ایک بڑا تاریخی، ایک اہم واقعہ ہے۔تاریخی تو نہیں ایک اہم واقعہ ہے اور مسلمانوں کے لئے اس میں سبق بھی ہے اس لئے اس کی تفصیل بھی بڑی لکھی گئی ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن کریم میں آیات بھی نازل فرمائیں۔بہر حال اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " خدا تعالیٰ نے اپنے اخلاق میں یہ داخل رکھا ہے کہ وہ وعید کی پیشگوئی کو توبہ واستغفار اور دعا اور صدقہ سے ٹال دیتا ہے اسی طرح انسان کو بھی اس نے یہی اخلاق سکھائے ہیں۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس واقعہ کا ذکر کر کے وعدہ اور وعید کے فرق کو ظاہر فرمایا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ "جیسا کہ قرآن شریف اور حدیث سے یہ ثابت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جو منافقین نے محض خباثت سے خلاف واقعہ تہمت لگائی تھی اس تذکرہ میں بعض سادہ لوح صحابہ بھی شریک ہو گئے تھے۔" ان کا مقصد فتنہ نہیں تھا۔سادہ لوحی میں شامل ہو گئے۔" ایک صحابی ایسے تھے کہ وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر سے دو وقتہ روٹی کھاتے تھے۔حضرت ابو بکر نے ان کی اس خطا پر قسم کھائی تھی اور وعید کے طور پر عہد کر لیا تھا کہ میں اس بے جا حرکت کی سزا میں اس کو کبھی روٹی نہ دوں گا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی : وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوْا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ لِلهُ لَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ - (النور: 23) تب حضرت ابو بکرؓ نے اپنے اس عہد کو توڑ دیا اور بدستور روٹی لگا دی۔اسی بنا پر اسلامی اخلاق میں یہ داخل ہے کہ " یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مسئلہ حل کیا کہ "اگر وعید کے طور پر کوئی عہد کیا جائے تو اس کا توڑنا حسن اخلاق میں داخل ہے۔" و عید کیا ہے؟ فرمایا کہ "مثلاً اگر کوئی اپنے خدمت گار کی نسبت قسم کھائے کہ میں اس کو ضرور پچاس جوتے ماروں گا تو اس کی توبہ اور تفترع پر معاف کرنا سنت اسلام ہے تا تخلق باخلاق اللہ ہو جائے۔مگر وعدہ کا تخلف جائز نہیں۔ترک وعدہ پر باز پرس ہو گی مگر ترک و عید پر نہیں۔" (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 181) وعدہ ایک ایسا عہد ہے جو تمام منفی اور مثبت پہلو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے اور اس کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔اس کو توڑنا، پھر اس کی پوچھ کچھ بھی ہو گی یا پھر کچھ جرمانہ بھی ہو گا۔صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت عائشہ واقعہ افک کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں۔اس کی تفصیل کی کیونکہ اہمیت ہے۔اس لئے میں بھی اب بیان کر رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر میں