خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 603 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 603

خطبات مسرور جلد 16 603 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2018 بلکہ جنگی سامان سے لیس بھی تھا اور اس قافلے کی جو آمد ہوئی تھی وہ بھی مسلمانوں کے خلاف جنگ میں استعمال ہونی تھی کیونکہ واقعات سے پتہ لگتا ہے کہ وہ پوری طرح سے تیار تھے۔بہر حال یہ لوگ جب گئے تو دونوں فریق کے درمیان تیر اندازی کے علاوہ کوئی مقابلہ نہیں ہوا اور لڑائی کے لئے باقاعدہ صف بندی بھی نہیں ہوئی۔پہلے بھی اس کا ایک اور صحابی کے ذکر میں ایک دفعہ ذکر ہو چکا ہے۔وہ صحابی جنہوں نے مسلمانوں کی جانب سے پہلا تیر چلایا وہ حضرت سعد بن ابی وقاص تھے اور یہ وہ پہلا تیر تھا جو اسلام کی طرف سے چلایا گیا۔اس موقع پر حضرت مقداد بن اسود اور حضرت عیینہ بن غره وان، (سیرت ابن ہشام اور تاریخ طبری میں عتبہ بن غزوان ہے ) مشرکوں کی جماعت سے نکل کر مسلمانوں میں آملے کیونکہ ان دونوں نے اسلام قبول کیا ہوا تھا اور وہ مسلمانوں کی طرف جانا چاہتے تھے۔حضرت عبیدہ بن حارث کی سرکردگی میں یہ اسلام کا دوسرائریہ تھا۔تیر اندازی کے بعد دونوں فریق پیچھے ہٹ گئے۔( پہلے بھی کسی خطبہ میں ایک دفعہ ذکر ہو چکا ہے) اور مشرکین پر مسلمانوں کا اس قدر رعب پڑا کہ انہوں نے یہ سمجھا کہ مسلمانوں کا بہت بڑا لشکر ہے جو ان کی مدد کر سکتا ہے۔لہذا وہ خوفزدہ ہو کر واپس چلے گئے اور مسلمانوں نے بھی ان کا پیچھا نہیں کیا۔(السيرة الحلبية جلد 3 صفحه 215-216 سريه عبيدة بن الحارث مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) (سیرت ابن هشام جلد اول صفحه 592 سرية عبيدة بن الحارث مطبوعه مصطفی البابی مصر 1955ء)( تاريخ الطبری جلد 2 صفحه 12 سنة 1ه مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1987ء) کیونکہ مقصد جنگ نہیں تھا صرف ان کو روکنا تھا اور یہ سبق دینا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف اگر وہ تیاری کریں گے تو مسلمان بھی تیار ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے موقع پر حضرت مسطح اور ابن الیاس کو پچاس وسق غلہ عطا فرمایا اس زمانے میں مال غنیمت میں یہ دیا جاتا تھا طبقات الکبریٰ میں یہ باتیں لکھی ہیں ) ان کی وفات 56 برس کی عمر میں 34 ہجری میں حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں ہوئی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ حضرت علی کے دورِ خلافت تک زندہ رہے اور حضرت علی کے ساتھ جنگ صفین میں شامل ہوئے اور اسی سال 37 ہجری میں وفات پائی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 39 مسطح بن اثاثة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (الاصابه جلد 6 صفحه 74 مسطح بن اثاثه مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) حضرت مسطح وہی شخص ہیں جن کے نان و نفقہ کا بندوبست حضرت ابو بکر کیا کرتے تھے، ان کے ذمہ تھا۔لیکن جب حضرت عائشہ پر تہمت لگائی گئی۔الزام لگایا گیا تو ان لگانے والوں میں مسطح بھی شامل ہو گئے اور حضرت ابو بکر نے اس وقت قسم کھائی کہ آئندہ ان کی کفالت نہیں کریں گے جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسْكِيْنَ وَالْمُهَجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۖ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ - اور تم میں سے صاحب فضیلت اور صاحب توفیق اپنے قریبیوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے کی قسم نہ کھائیں۔پس چاہئے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔کیا تم یہ پسند نہیں کرتے (النور:23)