خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 602 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 602

خطبات مسرور جلد 16 602 50 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 14 / دسمبر 2018ء بمطابق 15 فتح 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: صحابہ کے ذکر میں سے آج حضرت مسطح بن اللہ کا ذکر ہو گا۔ان کا نام عوف اور لقب میسطح تھا ان کی والدہ حضرت ام مسطح سلمیٰ بنت صخر تھیں جو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ کی خالہ ریطہ بنت صخر کی بیٹی تھیں۔(الاصابه جلد 6 صفحه 74 مسطح بن اثاثه مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء)(اسد الغابه جلد 5 صفحه 150 مسطح بن اثاثة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (استیعاب جلد 4 صفحه 1472 مسطح بن اثاثة مطبوعة دار الجيل بيروت 1992ء) حضرت مسطح بن اثاثہ نے حضرت عبیدہ بن حارث اور ان کے دو بھائیوں حضرت طفیل بن حارث حصین بن حارث کے ساتھ مکہ سے ہجرت کی۔سفر سے پہلے طے پایا کہ یہ لوگ وادی تاریخ میں اکٹھے ہوں گے لیکن حضرت مسطح بن اثاثہ پیچھے رہ گئے کیونکہ ان کو سفر کے دوران سانپ نے ڈس لیا تھا۔اگلے دن ان لوگوں کو جو پہلے چلے گئے حضرت مسطح کے سانپ کے ڈسے جانے کی اطلاع ملی پھر یہ لوگ واپس گئے اور انہیں ساتھ لے کر رینہ آگئے۔مدینہ میں سب لوگ حضرت عبد الرحمن بن سلمہ کے ہاں ٹھہرے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 37 عبيدة بن الحارث مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسطح بن اثاثہ اور زید بن مزین کے درمیان مواخات کا رشتہ قائم کیا تھا۔حضرت مسطح غزوہ بدر سمیت دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 39 مسطح بن اثاثة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) ہجرت کے آٹھ مہینے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبیدہ بن حارث کو ساٹھ یا ایک روایت کے مطابق اسی سواروں کے ساتھ روانہ کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبیدہ بن حارث کے لئے ایک سفید رنگ کا پرچم باندھا، ایک جھنڈا بنایا جسے مسطح بن اثاثہ نے اٹھایا۔اس سریہ کا مطلب یہ تھا کہ قریش کے تجارتی قافلے کو راہ میں روک لیا جائے۔قریش کے قافلے کا امیر ابو سفیان تھا، بعض کے مطابق عکرمہ بن ابو جہل اور بعض کے مطابق میکرز بن حفص تھا۔اس قافلے میں 200 آدمی تھے جو مال لے کر جارہے تھے۔صحابہ کی اس جماعت نے رابغ وادی پر اس قافلے کو جالیا، اس مقام کو وڈان بھی کہا جاتا ہے۔یہ قافلہ صرف تجارتی قافلہ نہیں تھا