خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 52
52 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 فروری 2018 خطبات مسرور جلد 16 ظہور میں نہ آوے۔اور عوام کے واسطے استغفار کے دوسرے معنی بھی لئے جاویں گے "عام آدمی کے لئے استغفار کے معنی یہ بھی ہیں " کہ جو جرائم اور گناہ ہو گئے ہیں ان کے بدنتائج سے خدا بچائے رکھے اور ان گناہوں کو معاف کر دے اور ساتھ ہی آئندہ گناہوں سے محفوظ رکھے۔" فرمایا" بہر حال یہ انسان کے لئے لازمی امر ہے وہ استغفار میں ہمیشہ مشغول رہے۔" فرمایا کہ " یہ جو قحط اور طرح طرح کی بلائیں دنیا میں نازل ہوتی ہیں ان کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ لوگ استغفار میں مشغول ہو جائیں۔" پس جب انسان مشکلات میں گرفتار ہوتا ہے یا احمدیوں پر مشکلات ہیں تو دعاؤں کی طرف توجہ ہونی چاہئے اور استغفار کی طرف بھی توجہ ہونی چاہئے۔فرمایا اگر استغفار کا یہ مطلب نہیں ہے جو استغفر اللہ ، استغفر اللہ کہتے رہیں۔اصل میں غیر ملک کی زبان کے سبب لوگوں سے حقیقت چھپی رہی ہے۔عرب کے لوگ تو ان باتوں کو خوب سمجھتے تھے مگر ہمارے ملک میں غیر زبان کی وجہ سے بہت سی حقیقتیں مخفی رہی ہیں۔بہت سے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے اتنی دفعہ استغفار کیا۔سو تسبیح یا ہزار تسبیح پڑھی مگر جو استغفار کا مطلب اور معنی پوچھو تو بس کچھ نہیں۔ہکا بکا رہ جاویں گے۔انسان کو چاہئے کہ حقیقی طور پر دل ہی دل میں معافی مانگتا رہے کہ وہ معاصی اور جرائم جو مجھے سے سرزد ہو چکے ہیں ان کی سزا نہ بھگتنی پڑے۔اور آئندہ دل ہی دل میں ہر وقت خدا تعالیٰ سے مدد طلب کرتا رہے کہ آئندہ نیک کام کرنے کی توفیق دے اور معصیت سے بچائے۔" فرمایا کہ "خوب یاد رکھو کہ لفظوں سے کچھ کام نہیں بنے گا۔اپنی زبان میں بھی استغفار ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ پچھلے گناہوں کو معاف کرے اور آئندہ گناہوں سے محفوظ رکھے اور نیکی کی توفیق دے اور یہی حقیقی استغفار ہے۔کچھ ضرورت نہیں کہ یونہی استغفر اللہ ، استغفر اللہ کہتا پھرے اور دل کو خبر تک نہ ہو۔"اگر دل میں بھی استغفار سے وہ نرمی اور رقت اور جوش پیدا نہیں ہوتا اور خوف اور اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا نہیں ہوتی تو اس وقت تک اس کا کوئی فائدہ نہیں۔دل میں جوش پیدا ہونا چاہئے فرمایا کہ " یاد رکھو کہ خدا تک وہی بات پہنچتی ہے جو دل سے نکلتی ہے۔اپنی زبان میں ہی خدا تعالیٰ سے بہت دعائیں مانگنی چاہئیں۔اس سے دل پر بھی اثر ہوتا ہے۔زبان تو صرف دل کی شہادت دیتی ہے۔اگر دل میں جوش پیدا ہو اور زبان بھی ساتھ مل جائے تو اچھی بات ہے۔بغیر دل کے صرف زبانی دعائیں عبث ہیں۔" فضول ہیں "ہاں دل کی دعائیں اصلی دعائیں ہوتی ہیں۔جب قبل از وقت بلا انسان اپنے دل ہی دل میں خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگتا رہتا ہے اور استغفار کرتارہتا ہے تو پھر خداوند رحیم و کریم سے وہ بلا ٹل جاتی ہے۔" یہ نہیں کہ مصیبت آگئی، مشکل آگئی، تکلیف آگئی، تب دعائیں مانگو۔اس سے پہلے ہی دعائیں مانگتے رہنا چاہئے۔تو فرمایا خداوند رحیم و کریم ان بلاؤں کو پھر ٹال دیتا ہے۔لیکن جب بلا نازل ہو جاتی ہے پھر نہیں ٹلا کرتی۔بلا کے نازل ہونے سے پہلے دعائیں کرتے رہنا چاہئے اور بہت استغفار کرنا چاہئے۔اس طرح سے خد ابلا کے وقت محفوظ رکھتا ہے۔" فرمایا کہ " ہماری جماعت کو چاہئے کہ کوئی امتیازی بات بھی دکھائے۔"فرق ہونا چاہئے کوئی۔"اگر کوئی شخص بیعت کر کے جاتا ہے اور کوئی امتیازی بات نہیں دکھاتا۔اپنی بیوی کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہے جیسا پہلے تھا اور اپنے عیال و اطفال سے پہلے کی طرح ہی پیش آتا ہے تو یہ اچھی بات نہیں۔اگر بیعت کے بعد بھی وہی بد خلقی اور بد سلو کی رہی اور وہی حال رہا جو پہلے تھا تو پھر بیعت کرنے کا کیا فائدہ؟ چاہئے کہ بیعت کے بعد غیروں کو بھی اور اپنے