خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 600 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 600

خطبات مسرور جلد 16 600 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07دسمبر 2018 بویا اور ملک میں جنگ کی آگ مشتعل کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کے خلاف قبائل عرب کو خطر ناک طور پر ابھارا اور مسلمانوں کی عورتوں پر اپنے جوش دلانے والے اشعار میں تشبیب بھی کہی۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے منصوبے کئے۔یہ سب کچھ ایسی حالت میں کیا کہ مسلمان پہلے سے ہی جو چاروں طرف سے مصائب میں گرفتار تھے ان کے لئے سخت مشکل حالات پیدا کر دیئے اور ان حالات میں کعب کا جرم بلکہ بہت سے جرموں کا مجموعہ ایسا نہ تھا کہ اس کے خلاف کوئی تعزیری قدم نہ اٹھایا جائے۔چنانچہ یہ قدم اٹھایا گیا اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ آجکل مہذب کہلانے والے ممالک میں بغاوت اور عہد شکنی اور اشتعال جنگ اور سازش قتل کے جرموں میں مجرموں کو قتل کی سزا دی جاتی ہے پھر اعتراض کس چیز کا۔اور پھر دوسراسوال قتل کے طریق کا ہے کہ اس کو خاموشی سے کیوں رات کو مارا گیا؟ تو اس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ یاد رکھنا چاہئے کہ عرب میں اس وقت کوئی باقاعدہ سلطنت نہیں تھی۔ایک سربراہ تو مقرر کر لیا تھا، لیکن صرف اسی کا فیصلہ نہیں ہو تا تھا بلکہ اگر اپنے اپنے فیصلے کرنا چاہے تو ہر شخص اور ہر قبیلہ آزاد اور خود مختار بھی تھا۔مجموعی طور پر مشترکہ فیصلے ہوتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے اور اگر اپنے طور پر قبیلوں نے کرنے ہوتے تو وہ بھی ہوتے تھے۔تو ایسی صورت میں وہ کون سی عدالت تھی جہاں کعب کے خلاف مقدمہ دائر کر کے باقاعدہ قتل کا حکم حاصل کیا جاتا۔کیا یہود کے پاس شکایت کی جاتی جن کا وہ سردار تھا اور جو خود مسلمانوں سے غداری کر چکے تھے، آئے دن فتنے کھڑے کرتے رہتے تھے ؟ اس لئے یہ سوال ہی نہیں پیدا ہو تا کہ یہود کے پاس جایا جاتا۔قبائل سلیم اور غطفان سے دادر سی چاہی جاتی جو گزشتہ چند ماہ میں تین چار دفعہ مدینہ پر چھاپہ مارنے کی تیاری کر چکے تھے ؟ وہ بھی ان کے قبیلے تھے تو ظاہر ہے کہ ان سے بھی کوئی انصاف نہیں ملنا تھا۔پھر آپ لکھتے ہیں کہ اس وقت کی حالت پر غور کرو اور پھر سوچو کہ مسلمانوں کے لئے سوائے اس کے وہ کون سا راستہ کھلا تھا کہ جب ایک شخص کی اشتعال انگیزی اور تحریک جنگ اور فتنہ پردازی اور سازش قتل کی وجہ سے اس کی زندگی کو اپنے لئے اور ملک کے امن کے لئے خطرہ پاتے ہوئے خود حفاظتی کے خیال سے موقع پا کر اسے قتل کر دیتے کیونکہ یہ بہت بہتر ہے کہ ایک شریر اور مفسد آدمی قتل ہو جاوے بجائے اس کے کہ بہت سے پر امن شہریوں کی جان خطرے میں پڑے اور ملک کا امن برباد ہو۔اللہ تعالیٰ بھی یہی فرماتا ہے کہ فتنہ جو ہے وہ قتل سے بڑا ہے۔بہر حال اس معاہدے کی رو سے جو ہجرت کے بعد مسلمانوں اور یہود کے درمیان ہو ا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک معمولی شہری کی حیثیت حاصل نہیں تھی بلکہ آپ اس جمہوری سلطنت کے صدر قرار پائے تھے جو مدینہ میں قائم ہوئی تھی اور آپ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ جملہ تنازعات اور امور سیاسی میں جو فیصلہ مناسب خیال کریں صادر فرمائیں۔پس اگر آپ نے ملک کے امن کے مفاد میں کعب کی فتنہ پر دازی کی وجہ سے اسے واجب القتل قرار دیا تو یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی اس لئے تیرہ سو سال کے بعد اسلام پر اعتراض کرنے والوں کا یہ اعتراض جو ہے بالکل بودا ہے