خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 599
خطبات مسرور جلد 16 599 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07دسمبر 2018 لے کر آئے، اس پر قابو پالیا اور پھر انہوں نے اس کو قتل کر دیا۔جب قتل کیا تو اس وقت حضرت حارث کا جو ذکر آ رہا ہے وہ زخمی ہو گئے تھے، ان کو اپنے لوگوں کی تلوار لگ گئی تھی۔اور پھر جب اس کو قتل کر دیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس قتل کی اطلاع دی۔جب صبح اس کے قتل کی خبر مشہور ہوئی تو شہر میں بڑی سنسنی پھیل گئی۔سب یہودی جوش میں آگئے۔دوسرے دن یعنی اگلے دن صبح یہودیوں کا ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ ہمارا سر دار کعب بن اشرف اس طرح قتل کر دیا گیا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا، انکار نہیں کیا نہ یہ کہا کہ اچھا مجھے نہیں پتہ، کوئی ایسی بات نہیں ہوئی۔آپ نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ کعب کس کس جرم کا مرتکب ہوا ہے۔پھر آپ نے اجمالاً ان کو کعب کی عہد شکنی، تحریک جنگ، فتنہ انگیزی، فحش گوئی، سازش قتل وغیرہ کی کارروائیاں یاد دلائیں جس پر یہ لوگ ڈر کر خاموش ہو گئے۔تب ان کا جوش ٹھنڈ ا ہو گیا۔ان کو پتہ لگ گیا کہ ہاں بات تو حقیقت ہے اور یہی اس کی سزا ہونی چاہئے تھی۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہیں چاہئے کہ کم از کم آئندہ کے لئے امن اور تعاون کا معاہدہ کرو اور عداوت اور فتنہ و فساد کا بیج نہ بوؤ۔چنانچہ یہود کی رضامندی کے ساتھ آئندہ کے لئے ایک نیا معاہدہ لکھا ہ لکھا گیا اور یہود نے مسلمانوں کے ساتھ امن و امان کے ساتھ رہنے اور فتنہ وفساد کے طریقوں سے بچنے کا از سر کو وعدہ کیا اور یہ عہد نامہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سپردگی میں دے دیا گیا۔تاریخ میں کسی بھی جگہ مذکور نہیں کہ اس کے بعد یہودیوں نے کبھی کعب بن اشرف کے قتل کا ذکر کر کے مسلمانوں پر الزام عائد کیا ہو کیونکہ ان کے دل محسوس کرتے تھے کہ کعب اپنی مستحق سزا کو پہنچا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ مغربی مورخین بعد میں یہ اعتراض کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ناجائز قتل کروایا اور یہ غلط چیز تھی۔تو وہ لکھتے ہیں کہ یہ ناجائز قتل نہیں تھا۔کیونکہ کعب بن اشرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باقاعدہ امن کا معاہدہ کر چکا تھا اور مسلمانوں کے خلاف کارروائی کرنا تو در کنار رہا اس نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ ہر بیرونی دشمن کے خلاف مسلمانوں کی مدد کرے گا اور مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے گا۔اس نے اس معاہدے کی رو سے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ جو رنگ مدینہ میں جمہوری سلطنت کا قائم کیا گیا ہے اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صدر ہوں گے اور ہر قسم کے تنازعات وغیرہ میں آپ کا فیصلہ سب کے لئے واجب القبول ہو گا۔چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ تاریخ سے ثابت ہے کہ اسی معاہدے کے ماتحت یہودی لوگ اپنے مقدمات وغیرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے تھے اور آپ ان میں احکام جاری فرماتے تھے۔اب ان حالات کے ہوتے ہوئے کعب نے تمام عہد و پیمان کو بالائے طاق رکھا، پیچھے کر دیا، چھوڑ دیا۔مسلمانوں سے بلکہ حق یہ ہے کہ حکومت وقت سے غداری کی۔یہاں مسلمانوں سے غداری کا سوال نہیں اس نے حکومت وقت سے غداری کی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سر براہ حکومت تھے اور مدینہ میں فتنہ وفساد کا بیج