خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 598
خطبات مسرور جلد 16 598 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07دسمبر 2018 تشبیب کی یعنی اپنے جوش دلانے والے اشعار میں نہایت گندے اور مخش طریق پر مسلمان خواتین کا ذکر کیا حتی کہ خاندان نبوت کی مستورات کو بھی ان اوباشانہ اشعار کا نشانہ بنایا اور اپنے شعروں کا بڑا چرچا کر وایا۔آخر اس نے انتہا یہ کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی اور آپ کو کسی دعوت وغیرہ کے بہانے سے اپنے مکان پر بلا کر چند نوجوان یہودیوں سے آپ کو قتل کروانے کا منصوبہ بنایا۔مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے وقت پر اطلاع ہو گئی اور یہ سازش کامیاب نہیں ہوئی۔جب نوبت یہاں تک آگئی اور کعب کے خلاف عہد شکنی، بغاوت، تحریک جنگ، فتنہ پردازی، فحش گوئی اور سازش قتل کے الزامات پایہ ثبوت کو پہنچ گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اس بین الا قوام معاہدہ کی رو سے جو آپ کے مدینہ میں تشریف لانے کے بعد مدینہ کے لوگوں میں ہوا تھا، مدینہ کی جمہوری سلطنت قائم ہوئی تھی اور آپ اس کے صدر اور حاکم اعلیٰ بنے تھے۔آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ کعب بن اشرف اپنی کارروائیوں کی وجہ سے واجب القتل ہے اور اپنے صحابیوں کو ارشاد فرمایا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔لیکن چونکہ اس وقت کعب کی فتنہ انگیزیوں کی وجہ سے مدینہ کی فضا ایسی ہو رہی تھی کہ اگر اس کے خلاف باضابطہ طور پر اعلان کر کے اسے قتل کیا جاتا تو خطرہ تھا کہ مدینہ میں خانہ جنگی نہ شروع ہو جائے اور پھر پتہ نہیں کتنا کشت و خون ہو اور اس وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنگ اور فتنے اور فساد اور کشت و خون کو روکنے کے لئے یہ فیصلہ کیا کہ خاموش طریقے سے اس کا قتل کیا جائے اور اس کے لئے آپ نے یہ ڈیوٹی قبیلہ اوس کے ایک مخلص صحابی محمد بن مسلمہ کے سپرد فرمائی اور انہیں یہ بھی تاکید فرمائی کہ جو بھی طریق اختیار کریں قبیلہ اوس کے رئیس سعد بن معاذ کے مشورہ سے اس پر عمل کریں۔تو محمد بن مسلمہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ خاموشی سے قتل کرنے کے لئے تو کوئی بات عذر وغیرہ بنانا پڑے گا جس کی مدد سے کعب کو اس کے گھر سے نکال کر قتل کیا جا سکے تو آپ نے فرمایا اچھا، ٹھیک ہے۔جو بھی تم نے طریق اختیار کرنا ہے کرو۔چنانچہ محمد بن مسلمہ نے سعد بن معاذ کے مشورہ سے ابو نائلہ اور دو تین اور صحابیوں کو اپنے ساتھ لیا اور کعب کے مکان پر پہنچے اور ان سے کہا کہ ہمارے صاحب یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے صدقہ مانگا ہے۔آجکل ہم تنگ حال ہیں تم ہمیں کچھ قرض دے سکتے ہو ؟ یہ سن کے وہ بڑا خوش ہوا اور کہنے لگا کہ وہ دن دور نہیں کہ جب تم اس شخص سے بیزار ہو جاؤ گے اور اسے چھوڑ دو گے۔تو محمد نے جواب دیا کہ خیر ہم تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اختیار کر چکے ہیں، اور اب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ اس سلسلہ کا انجام کیا ہوتا ہے۔مگر تم بتاؤ کہ قرض دو گے کہ نہیں ؟ کعب نے کہا ہاں میں دے دوں گا مگر کچھ چیز رہن رکھو۔انہوں نے کہا کیا چیز ؟ تو اس بد بخت نے پہلی بات یہ کہی کہ اپنی عور تیں میرے پاس رہن رکھ دو۔ان کو غصہ تو بہت آیا کہ تمہارے جیسے آدمی کے پاس ہم اپنی عورتیں رکھ دیں۔اس نے کہا اچھا پھر بیٹے دے دو۔انہوں نے کہا یہ بھی ممکن نہیں ہے۔ہم سارے عرب کا طعن اپنے سر پر نہیں لے سکتے۔اگر تم مہربانی کرو تو اپنے ہتھیار تمہارے پاس رہن رکھ دیتے ہیں۔تو کعب اس پر راضی ہو گیا۔محمد بن مسلمہ اور اس کے ساتھی رات کو آنے کا وعدہ دے کر واپس چلے گئے اور جب رات ہوئی تو یہ لوگ کھلے طور پر اپنے ہتھیار لے کر آئے۔اس کو بلایا، گھر سے باہر