خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 597 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 597

خطبات مسرور جلد 16 597 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07دسمبر 2018 اور بغض تھا اور اس کی وجہ سے اس کی آگ میں وہ جل رہا تھا اور اس بغض اور کینہ کی وجہ سے اس نے خفیہ چالوں اور مخفی ساز باز سے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت شروع کر دی۔چنانچہ لکھا ہے کہ کعب ہر سال یہودی علماء و مشائخ کو بہت سی خیرات دیا کرتا تھا لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد یہ لوگ اپنے سالانہ وظائف لینے کے لئے اس کے پاس گئے تو اس نے باتوں باتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور ان سے کہا کہ اپنی مذہبی کتابوں کی بنا پر تمہاری کیا رائے ہے کہ یہ شخص سچاہے کہ نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ بظاہر تو یہ وہی نبی معلوم ہوتا ہے جس کا ہمیں وعدہ دیا گیا ہے۔اس جواب پر کعب جو بغض اور کینہ رکھتا تھا بگڑ گیا اور ان کو بڑا سخت برابھلا کہا اور جو خیرات انہیں دیا کرتا تھا، جو وظیفہ لگایا ہوا تھا وہ نہ دیا۔یہودی علماء کی جب روزی بند ہو گئی تو پھر یہ کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ کعب کے پاس گئے اور کہا کہ ہمیں علامات کے سمجھنے میں غلطی لگ گئی تھی۔ہم نے غور کیا ہے، اصل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ نبی نہیں ہیں جن کا وعدہ دیا گیا تھا۔بہر حال اس جواب سے کعب کا مطلب تو حل ہو گیا اور اس نے خوش ہو کر ان کو خیرات کر دی، اُن کا بھی مطلب حل ہو گیا۔تو بہر حال یہ تو ایک مذہبی مخالفت تھی، حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے صحیح لکھا ہے کہ مذہبی مخالفت تھی اور یہ مذہبی مخالفت کوئی ایسی قابل اعتراض بات نہیں ہے کہ جس پر کوئی انتہائی قدم اٹھایا جائے یا کعب کو زیر الزام سمجھا جائے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد کعب کی مخالفت زیادہ خطرناک صورت اختیار کر گئی اور آخر جنگ بدر کے بعد تو اس نے ایسا رویہ اختیار کیا جو سخت مفسدانہ اور فتنہ انگیز تھا اور مسلمانوں کے لئے نہایت خطرناک حالات پیدا ہو گئے تھے۔پہلے تو کعب سمجھتا تھا کہ مسلمان کا ایمان کا جوش یہ عارضی چیز ہے اور ختم ہو جائے گا اور وہ واپس اپنے مذہب کی طرف آجائیں گے لیکن جب جنگ بدر میں غیر معمولی فتح نصیب ہوئی اور قریش کے اکثر سر دار مارے گئے تو پھر اس کو فکر پید اہوئی اور پھر اس نے اپنی پوری کوشش اسلام کے مٹانے اور تباہ و برباد کرنے میں صرف کرنے کا تہیہ کیا۔اس کے دلی بغض و حسد کا سب سے پہلا اظہار بدر کے موقع پر ہی ہوا جب لوگوں نے آکر کہا کہ مکہ کے کفار پر ہماری فتح ہوئی ہے تو اس نے بڑا کہا کہ یہ سب جھوٹ ہے اور یہ غلط خبر ہے۔لیکن بہر حال جیسا کہ ذکر ہوا ہے کہ یہ خبر سچی ثابت ہونے کے بعد اس کا غیض و غضب اور زیادہ بھڑک اٹھا۔اس کے بعد جب جنگ بدر کی فتح کے بعد مسلمان واپس آگئے تو اس نے مکہ کا سفر کیا اور وہاں جا کر مکہ والوں کو اپنی چرب زبانی، اپنی باتوں اور اپنی تقریروں اور شعروں کے ذریعہ سے قریش کے دلوں کی سلگتی ہوئی آگ جو مسلمانوں کے خلاف تھی اس کو اور تیز کیا اور بھڑ کانے کی کوشش کی اور ان کے دل میں مسلمانوں کے خون کی نہ بجھنے والی پیاس پیدا کر دی۔اور ان کے سینے جذبات اور انتقام سے سخت بھر دیئے۔جب کعب کی اشتعال انگیزی سے ان کے احساسات میں ایک انتہائی درجہ کی تیزی پیدا ہو گئی ، بجلی پیدا ہو گئی تو اس نے ان کو خانہ کعبہ کے صحن میں لے جا کر کعبہ کے پر دے ان کے ہاتھ میں دے دیئے اور ان سے قسمیں لیں کہ جب تک اسلام اور بانی اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا سے ملیا میٹ نہ کر دیں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔کہتے ہیں کہ اس کی ان باتوں سے مکہ میں آتش فشاں کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔پھر اس نے دوسرے قبائل کا رخ کیا اور ہر قوم میں جا کے مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا اور مسلمان خواتین پر بھی