خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 596
خطبات مسرور جلد 16 596 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07دسمبر 2018 صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تھے۔(صحیح بخاری کتاب المغازى باب قتل كعب بن الاشرف۔حدیث نمبر 4037) الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 334 وابن اخيهما الحارث بن اوش مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) کعب بن اشرف وہ شخص تھا جو مدینہ کے سرداروں میں سے تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معاہدے میں شامل تھا لیکن معاہدہ کر کے بعد میں اس نے فتنہ پھیلانے کی کوشش کی اور اس کے قتل کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔بہر حال اس موقع پر ان کے زخمی ہونے کا جو واقعہ ہے اس کی شرح عمدۃ القاری میں مزید تفصیل یہ ہے کہ محمد بن مسلمہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جب کعب بن اشرف پر حملہ کیا اور اس کو قتل کر دیا تو ان کے ایک ساتھی حضرت حارث بن اوس کو تلوار کی نوک لگی اور وہ زخمی ہو گئے ، اپنے ساتھیوں کی تلوار کی نوک سے زخمی ہوئے تھے۔چنانچہ آپ کے ساتھی انہیں اٹھا کر تیزی سے مدینہ پہنچے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حارث بن اوس کے زخم پر اپنا لعاب لگایا اور اس کے بعد انہیں تکلیف نہیں ہوئی۔(عمدة القارى جلد 17 صفحه 179 كتاب المغازى باب قتل كعب بن الاشرف مطبوعة دار الكتب العلميه بیروت 2001ء) کعب بن اشرف کا قتل کیوں کیا گیا، اس کی تھوڑی سی تفصیل ایک موقع پر پہلے بھی میں نے بیان کی تھی۔مزید تفصیل جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھی ہے وہ بیان کر تاہوں۔بعض باتیں وہی ہیں کہ کعب گو مذہب یہودی تھا، لیکن دراصل یہودی النسل نہ تھا، بلکہ عرب تھا۔اس کا باپ اشرف بنو ئبھان کا ایک ہوشیار اور چلتا پُرزہ آدمی تھا جس نے مدینہ میں آکر بنو نضیر کے ساتھ تعلقات پیدا کئے پھر ان کا حلیف بن گیا۔آخر اس نے اتنا اقتدار اور رسوخ پیدا کر لیا کہ قبیلہ بنو نضیر کے بڑے رئیس ابو رافع بن ابی الحقیق نے اپنی لڑکی اس کو رشتہ میں دے دی۔اسی لڑکی کے بطن سے کعب پیدا ہوا جس نے بڑے ہو کر اپنے باپ سے بھی بڑھ کر رتبہ حاصل کیا حتی کہ بالآخر اسے یہ حیثیت حاصل ہو گئی کہ تمام عرب کے یہودی اسے اپنا سردار سمجھنے لگ گئے۔کعب ایک وجیہہ اور شکیل شخص ہونے کے علاوہ قادر الکلام بھی تھا۔بہت اچھی تقریر کر لیا کرتا تھا، بہت اچھا بولتا تھا۔اور شاعر بھی تھا اور انتہائی دولت مند آدمی بھی تھا اور اپنی قوم کے علماء اور دوسرے ذی اثر لوگوں کو اپنی مالی فیاضی سے اپنے ہاتھ کے نیچے رکھتا تھا۔مگر اخلاقی نقطہ نگاہ سے وہ ایک نہایت گندے اخلاق کا آدمی تھا۔خفیہ چالوں اور ریشہ دوانیوں کے فن میں اسے کمال حاصل تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مدینہ میں ہجرت کی تو کعب بن اشرف نے دوسرے یہودیوں کے ساتھ مل کر اس معاہدے میں شرکت اختیار کی۔یہ لمبی تفصیل انہوں نے لکھی ہوئی ہے۔میں بعض جگہ سے کچھ مختصر بیان کروں گا۔بہر حال اس معاہدے میں شرکت کی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور یہود کے درمیان باہمی دوستی اور امن اور امان اور مشترکہ دفاع کے متعلق تحریر کیا گیا تھا۔مگر اندر ہی اندر کعب کے دل میں بغض اور عداوت کی آگ سلگنے لگی۔معاہدے میں شامل تو وہ ہو گیا لیکن دل میں اس کے فتور تھا، نفاق تھا اور دشمنی تھی، کینہ