خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 595 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 595

خطبات مسرور جلد 16 595 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07دسمبر 2018 میں سب سے زیادہ مالدار ہیں اور آج موقع ہے کہ اس میں حصہ لیں۔نہ آپ خود غزوہ کے لئے نکلتے ہیں نہ ہی کسی کو سواری مہیا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اے میرے بیٹے ! اب یہاں بیٹے کے سامنے ایک اور بہانہ ہے اور وہی حقیقت ہے کہ میرے بیٹے میں کیوں اس گرمی اور تنگی کے موسم میں بنو اصفر کی طرف نکلوں۔اللہ کی قسم میں تو خربی (جہاں بنو سلمہ کے گھر تھے ) میں موجود اپنے گھر میں بھی ان کے خوف سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔رومیوں کا بڑا خوف تھا، ڈر تھا۔یہ بزدل آدمی تھے۔تو کیا میں ان کے خلاف جاؤں اور ان کے خلاف جنگ میں شامل ہوں۔اے بیٹے اللہ کی قسم ! میں تو گر دش زمانہ سے خوب آگاہ ہوں۔مجھے پتہ ہے حالات کیا ہوتے ہیں، آج کچھ ہیں کل کچھ ہیں۔ان کی یہ باتیں سن کر حضرت عبد اللہ اپنے والد سے سختی سے پیش آئے اور کہا کہ اللہ کی قسم آپ میں تو نفاق پایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ضرور آپ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن میں نازل کرے گا جسے سب پڑھ لیں گے، اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے گا کہ آپ منافقین میں سے ہیں۔حضرت عبد اللہ کے والد نے اس پر اپنا جوتا اتار کر ان کے منہ پر مارا۔عبد اللہ وہاں سے چلے گئے اور اپنے والد سے بات نہیں کی۔(کتاب المغازى للواقدى جلد دوم صفحه 381 غزوة تبوك دار الكتب بيروت 2004ء) (وفاء الوفاء جلد 4 صفحہ 67 مطبوعہ المکتبة الحقانیہ پشاور) جد بن قیس جو حضرت عبد اللہ کے والد تھے، ایک جگہ اُسد الغابہ میں لکھا ہے کہ ان کے بارے میں نفاق کا گمان کیا گیا ہے۔یہ حدیبیہ میں شریک تھے مگر جب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تو اس وقت یہ بیعت میں بھی شامل نہیں ہوئے۔اور کہا جاتا ہے کہ بعد میں انہوں نے توبہ کر لی تھی اور ان کی وفات حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں ہوئی۔(اسد الغابه جلد 1 صفحه 521 جد بن قيس مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) اگلے جن صحابی کا ذکر ہے یہ حضرت حارث بن اوس بن معاذ ہیں۔آپ قبیلہ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ کے بھتیجے تھے۔غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اٹھائیں سال کی عمر میں غزوہ احد میں شہید ہوئے لیکن بعض دوسری روایات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ غزوہ احد میں شہید نہیں ہوئے چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں غزوہ خندق کے موقع پر لوگوں کے قدموں کی پیروی کرتے ہوئے نکلی۔میں نے اپنے پیچھے سے زمین کی آہٹ سنی۔پلٹ کر دیکھا تو حضرت سعد بن معاذ تھے اور آپ کا بھتیجا حارث بن اوس بھی ہمراہ تھا جو اپنی ڈھال اٹھائے ہوئے تھا۔یہ روایت اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ آپ احد کے بعد بھی زندہ رہے۔(اسد الغابه جلد 1 صفحه 589 حارث بن اوس بن معاةٌ مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحه 256 حديث عائشة مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) حضرت حارث کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ آپ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے کعب بن اشرف کو قتل کیا تھا اور اس حملے کے دوران آپ کے پاؤں پر زخم لگا اور خون بہنے لگا۔صحابہ آپ کو اٹھا کر رسول اللہ