خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 594
خطبات مسرور جلد 16 594 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07دسمبر 2018 تعالیٰ نے حضرت زید کو میرے ہاتھوں عزت بخشی اور مجھے ان کے ہاتھوں رسوا نہیں کیا۔حضرت عمرؓ نے ابو مریم سے فرمایا کہ تمہاری رائے میں اس روز جنگ یمامہ میں مسلمانوں نے تمہارے کتنے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ابو مریم نے کہا کہ چودہ سو یا کچھ زائد۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ بشس القتلی۔کہ یہ کیا ہی برے مقتولین ہیں۔ابو مریم نے کہا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے باقی رکھا یہاں تک کہ میں نے اس دین کی طرف رجوع کیا جو اس نے اپنے نبی اور مسلمانوں کے لئے پسند فرمایا۔حضرت عمرؓ، ابو مریم کی اس بات سے بہت خوش ہوئے۔ابو مریم بعد میں بصرہ کے قاضی بھی بنے۔الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد نمبر 2 صفحه 121 ذکر زید بن الخطاب۔دارالکتب العلميه بيروت 2002ء) الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 288-289 زيد بن الخطاب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) اگلے جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت عبادہ بن خشاشن ہے۔حضرت عبادہ بن خشخاش کا نام واقدی نے عبده بن حسحاس بیان کیا ہے جبکہ ابن مندہ نے آپ کا نام عبادہ بن خشخاش عنبری بیان کیا ہے۔بہر حال ان کا تعلق قبیلہ بلی سے تھا۔حضرت مُجد زبن زیاد کے چچازاد بھائی تھے اور ان کی والدہ کی طرف سے بھی بھائی تھے۔آپ بنو سالم کے حلیف تھے۔حضرت عبادہ بن خشخاش غزوہ بدر میں شریک تھے۔آپؐ نے قیس بن سائب کو غزوہ بدر میں قید کیا تھا۔حضرت عبادہ بن خشخاش غزوۂ احد کے دن شہید ہوئے اور آپ کو حضرت نعمان بن مالک اور حضرت مجد ر بن زیاد کے ساتھ ایک قبر میں دفن کیا گیا۔(اسد الغابه جلد نمبر 3 صفحه 53 عُبادة بن خَشْخَاش) (اسد الغابه جلد 3 صفحه 157 عبادة بن الخشخاش مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (اسد الغابه جلد 3 صفحه 513 عبده بن الحسحاس مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) اگلے صحابی جن کا ذکر ہو گا۔ان کا نام حضرت عبد اللہ بن جد ہے۔ان کے والد کا نام جد بن قیس تھا۔ان کی کنیت ابو ؤ نہب تھی۔ان کا تعلق قبیلہ بنو سلمہ سے تھا جو انصار کا ایک قبیلہ تھا۔حضرت معاذ بن جبل والدہ کی طرف سے آپ کے بھائی تھے۔حضرت عبد اللہ بن جذ غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شریک ہوئے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 430 عبد الله بن الجد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابه جلد 3 صفحه 196 عبد الله بن الجد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن جڑ کے والد ابو وہب سے کہا کہ ابو وہب کیا تم اس سال ہمارے ساتھ جنگ کے لئے نکلو گے ؟ ابو وہب نے کہا کہ آپ مجھے اجازت دیں اور فتنہ میں مبتلا نہ کریں۔میں نہیں جاسکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جو اس نے بہانہ کیا، عجیب بہانہ ہے کہ میری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بہت دلدادہ ہوں۔اگر میں بنو اصفر یعنی رومیوں کی عورتوں کو دیکھوں گا تو اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکوں گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض کرتے ہوئے اسے اجازت دے دی۔ٹھیک ہے ، بہانہ بنا رہے ہو، چھٹی دے دی، نہ جاؤ۔حضرت عبد اللہ بن جذ کو یہ پتہ لگا تو اپنے والد کے پاس آئے، اور ان سے کہا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا کیوں انکار کیا ہے ؟ اللہ کی قسم آپ تو بنو سلمہ