خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 593
خطبات مسرور جلد 16 593 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07دسمبر 2018 تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر میں بھی تمہاری طرح اچھے شعر کہتا ہو تا تو میں اپنے بھائی زید کی یاد میں ایسے ہی شعر کہتا جیسے تم نے اپنے بھائی کے لئے کہے ہیں تو مستم مبین نویرہ نے کہا کہ اگر میرا بھائی بھی اسی طرح دنیا سے گیا ہو تا جیسے آپ کا بھائی گیا تو میں کبھی اس پر غمگین نہ ہوتا۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ آج تک کبھی کسی نے مجھ سے ایسی تعزیت نہیں کی جیسی تم نے کی۔(استیعاب جلد دوم صفحه 553 زيد بن الخطاب مطبوعة دار الجيل بيروت 1992ء) اس واقعہ کی ایک اور تفصیلی روایت بھی ملتی ہے کہ حضرت عمر نے حضرت مستمیم بن نویرۃ سے فرمایا کہ تمہیں اپنے بھائی کا کس قدر سخت رنج ہے۔انہوں نے اپنی ایک آنکھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میری یہ آنکھ اسی غم میں ضائع ہوئی ہے۔میں اپنی صحیح آنکھ کے ساتھ اس قدر رویا کہ ضائع ہونے والی آنکھ نے بھی آنسو بہانے میں اس کی مدد کی ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ یہ ایسا شدید رنج ہے کہ کسی نے اپنے ہلاک ہونے والے کے لئے اتنے شدید غم کا اظہار نہ کیا ہو گا۔پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اللہ زید بن خطاب پر رحمت کرے۔اگر میں شعر کہنے کی طاقت رکھتا تو میں بھی ضرور حضرت زید پر اسی طرح رو تا جس طرح تم اپنے بھائی پر روتے ہو۔حضرت مستمیم نے کہا کہ اے امیر المومنین! اگر میر ابھائی جنگ یمامہ میں اسی طرح شہید ہو تا جس طرح آپ کے بھائی شہید ہوئے ہیں تو میں کبھی اس پر نہ روتا۔یہ بات حضرت عمرؓ کے دل کو لگی اور اپنے بھائی کی طرف سے آپ کو تسلی ہو گئی۔حضرت عمر کو اپنے بھائی کی جدائی کا بہت غم تھا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب بادِ صبا چلتی ہے تو میرے پاس زید کی خوشبولاتی ہے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 289 زيد بن الخطاب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) مسیلمہ کذاب کے ساتھیوں میں سے رجال بن عنفوة حضرت زید بن خطاب ہی کے ہاتھوں سے مارا گیا۔ایک روایت میں رجال بن عنفوۃ کا نام نہار بھی آیا ہے۔یہ وہ شخص تھا جس نے اسلام قبول کیا۔ہجرت کی اور قرآن کا قاری تھا۔پھر مسلیمہ کے ساتھ شامل ہو گیا۔(اس لئے ہمیشہ انجام بخیر ہونے کی دعا مانگنی چاہئے۔) اور اسے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ انہوں نے تمہیں نبوت میں شریک کر لیا ہے۔یہ بنو حنیفہ کے لئے سب سے بڑا فتنہ تھا۔حضرت ابو ہریرۃ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک وفد کے ساتھ بیٹھا ہو ا تھا۔ہمارے ساتھ رجال بن عُنفوۃ بھی تھا۔آپ نے فرمایا کہ تم میں ایک شخص ہے جس کی داڑھ اُحد پہاڑ کے برابر آگ میں ہو گی یعنی کہ وہ آگ میں ہو گا۔وہ ایک قوم کو گمراہ کرے گا۔پھر میں اور رجال بن عنفوۃ باقی بچے۔میں ہمیشہ اس بارے میں ڈرتا تھا یہاں تک کہ رجال بن عُنْفُوَة مُسیلمہ کذاب کے ساتھ نکلا اور اس نے اس کی نبوت کی گواہی دی۔یہ رجال بن عنفوۃ جنگ یمامہ میں قتل ہوا اور حضرت زید بن خطاب نے اسے قتل کیا۔(استیعاب جلد دوم صفحه 551-552 زيد بن الخطاب مطبوعه دار الجيل بيروت) حضرت زید بن خطاب کو ابو مریم الحنفی نے شہید کیا تھا۔حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ ابو مریم سے جب اس نے اسلام قبول کر لیا تھا کہا کہ کیا تم نے زید کو شہید کیا تھا۔اس نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ اے امیر المومنین ! اللہ