خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 592 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 592

خطبات مسرور جلد 16 592 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07دسمبر 2018 ایسا مت کہو۔خدا کے حضور تمہاری بڑی قیمت ہے۔" (سیر روحانی صفحہ 489 مطبوعہ قادیان 2005ء) بس عجیب قسم کی محبتوں کے فیض پائے ان لوگوں نے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرما یا کمرانَّ لِكُلِّ حَاضِرَةٍ بَادِيَةٌ وَبَادِيَةُ الِ مُحَمَّدٍ زَاهِرُ بْنُ الْحَرَام یعنی ہر شہری کا کوئی نہ کوئی دیہاتی تعلق دار ہوتا ہے اور آل محمد کے دیہاتی تعلق دار زاھر بن حرام ہیں۔زاھر بن حرام بعد میں کوفہ منتقل ہو گئے تھے۔(استیعاب جلد دوم صفحه 509 زاهر بن الحرام مطبوعه دار الجيل بيروت 1992ء) اگلے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام حضرت زید بن خطاب ہے۔آپ حضرت عمر کے بڑے بھائی تھے اور حضرت عمرؓ کے اسلام قبول کرنے سے قبل اسلام لے آئے تھے۔یہ ابتدائی ہجرت کرنے والوں میں سے بھی تھے۔غزوہ بدر میں ، احد میں ، خندق میں، حدیبیہ میں اور بیعت رضوان سمیت غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی مؤاخات حضرت معن بن عدی کے ساتھ کروائی تھی۔یہ دونوں اصحاب جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 288 زيد بن الخطاب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (استیعاب جلد دوم صفحه 550 زيد بن الخطاب مطبوعة دار الجيل بيروت 1992ء) غزوہ احد کے دن حضرت عمرؓ نے حضرت زید کو اللہ کی قسم دے کر فرمایا (حضرت زید حضرت عمرؓ کے بڑے بھائی تھے، ان کو کہا کہ میری زرہ پہن لو۔حضرت زید نے کچھ دیر کے لئے زرہ پہن لی۔جنگ کے وقت پھر اتار دی۔حضرت عمر نے زرہ اتارنے کی وجہ پوچھی تو حضرت زید نے جواب دیا کہ میں بھی اسی شہادت کا خواہش مند ہوں جس کی آپ کو تمنا ہے اور دونوں نے زرہ کو چھوڑ دیا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 289 زيد بن الخطاب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت زید بن خطاب سے روایت ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے غلاموں کا خیال رکھو۔اپنے غلاموں کا خیال رکھو۔انہیں اسی میں سے کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور انہیں وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو۔اور اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے جس پر تم ان کو معاف نہ کرنا چاہو تو اے اللہ کے بندو! انہیں بیچ دیا کرو اور انہیں سزا نہ دیا کرو۔جنگ یمامہ میں جب مسلمانوں کے پاؤں اکھڑے تو حضرت زید بن خطاب بلند آواز میں پکارنے لگے ، یہ دعا کرنے لگے کہ اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے ساتھیوں کے بھاگ جانے پر معذرت کرتا ہوں اور مسیلمہ کذاب اور محکم بن طفیل نے جو کام کیا ہے اس سے تیرے حضور اپنی براءت ظاہر کر تاہوں۔پھر آپ جھنڈے کو مضبوطی سے پکڑ کر دشمن کی صفوں میں آگے بڑھ کر اپنی تلوار کے جوہر دکھانے لگے یہاں تک کہ آپ شہید ہو گئے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 288 زيد بن الخطاب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) جب حضرت زید شہید ہو گئے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا اللہ زید پر رحم کرے۔میرا بھائی دو نیکیوں میں مجھ پر سبقت لے گیا یعنی اسلام قبول کرنے میں بھی مجھ سے پہلے اس نے اسلام قبول کیا اور شہید بھی مجھ سے پہلے ہو گیا۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے مستمیم بن نویرہ کو اپنے بھائی مالک بن نویرۃ کی یاد میں مرثیہ کہتے سنا