خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 591 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 591

خطبات مسرور جلد 16 591 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07دسمبر 2018 حضرت ڈاھر بن حرام الاشتبھی ایک صحابی تھے۔یہ بھی بدری صحابی ہیں۔ان کا تعلق اشجع قبیلہ سے تھا۔غزوہ بدر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شامل ہوئے۔حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ بادیہ نشینوں میں یعنی گاؤں کے رہنے والے جو تھے ان میں ایک آدمی تھا جن کا نام زاھر تھا۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دیہات کی سوغاتیں ساتھ لایا کرتے تھے اور جب وہ جانے لگتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو کافی مال و متاع دے کر روانہ فرماتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَ نَحْنُ حَاضِرُوهُ کہ زاھر ہمارے بادیہ نشین دوست ہیں اور ہم ان کے شہری دوست ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت رکھتے تھے۔حضرت زاھر معمولی شکل وصورت کے مالک تھے۔ایک دن ایسا ہوا کہ حضرت زاھر بازار میں اپنا کچھ سامان فروخت کر رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور پیچھے سے انہیں اپنے سینے سے لگا لیا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے آکر ان کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا۔حضرت زاھر حضور کو دیکھ نہیں پارہے تھے۔انہوں نے پوچھا کون ہے؟ مجھے چھوڑ دو! لیکن جب انہوں نے مڑ کر دیکھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا۔جب حضرت زاھر نے آپ کو پہچان لیا، ذراسا مڑ کے دیکھا تو جھلک نظر آگئی ہو گی۔پہچاننے کا یہ مطلب ہے کہ ذرا سا مڑ کے دیکھا تو احساس ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ہی ہیں تو اپنی کمر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک سے ملنے لگے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مزاحا کہنا شروع کر دیا کہ کون اس غلام کو خریدے گا۔حضرت زاھر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ تب تو آپ مجھے گھاٹے کا سودا پائیں گے۔مجھے کس نے خریدنا ہے؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ کے نزدیک تم گھاٹے کا سودا نہیں ہو۔یا فرمایا کہ اللہ کے حضور تم بہت قیمتی ہو۔(اسدالغابه جلد نمبر 2 صفحه (98)، (استیعاب جلد 2 صفحه 509 زاهر بن حرام دار الجيل بيروت 1992ء)، الشمائل المحمديه للترمذي صفحه 143 باب ما جاء في صفة مزاح رسول الله الله الله احیاء التراث العربی بیروت) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دلداری کا یہی واقعہ ایک جگہ بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : " اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تشریف لے جارہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک غریب صحابی جو اتفاقی طور پر بد صورت بھی تھے سخت گرمی کے موسم میں اسباب اٹھا رہے ہیں اور ان کا تمام جسم پسینہ اور گردو غبار سے اٹا ہوا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی سے ان کے پیچھے چلے گئے اور جس طرح بچے کھیل میں چوری چھپے دوسرے کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں اور پھر چاہتے ہیں کہ وہ اندازہ سے بتائے کہ کس نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا ہے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی سے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے۔اس نے آپ کے ملائم ہاتھوں کو ٹٹول کر سمجھ لیا کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو محبت کے جوش میں اس نے اپنا پسینہ سے بھرا ہوا جسم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کے ساتھ ملنا شروع کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے اور آخر آپ نے فرمایا۔میرے پاس ایک غلام ہے کیا اس کا کوئی خریدار ہے ؟ اس نے کہا یار سول اللہ ! میر اخریدار دنیا میں کون ہو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا