خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 51 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 51

خطبات مسرور جلد 16 51 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 فروری 2018 صاحب مجد ہونے کے یہ معنی سامنے ہونے چاہئیں۔پہلے حمد کے معنی پھر اس کے مجید ہونے کے معنی۔پھر فرمایا کہ وہ عزیز ہے۔یعنی وہ طاقتوں کا مالک ہے۔سب طاقتوروں سے زیادہ طاقتور ہے۔وہ نا قابل شکست ہے۔اسے شکست دینا ناممکن ہے۔سب عزتیں اسی کی ہیں۔اس کی قدر و قیمت کا کوئی شا ہی نہیں ہے۔وہ ہر چیز پر غالب ہے۔اس جیسا کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔یہ ہے عزیز کے معنی۔پھر فرمایادہ علیم ہے۔یعنی وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔اس چیز کا بھی جو ہو چکی ہے اور اس بات کا بھی جو آئندہ ہونے والی ہے۔جس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے جس کا علم مکمل طور پر ہر چیز پر حاوی ہے۔پس یہ وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب اتاری ہے یعنی قرآن کریم اور جس نے یہ آخری شریعت اتاری ہے۔اس نے ہر زمانے کی ضروریات کا علم اس میں مہیا کر دیا اور اب ہر قسم کی حفاظت اور غلبہ اس پر حقیقی رنگ میں عمل کرنے سے ہو گا اور ہو سکتا ہے۔پھر فرمایا وہ غَافِرِ النَّتَّبِ ہے۔گناہوں کو بخشنے والا ہے۔پس اس کے آگے جھکتے ہوئے گناہوں کی بخشش مانگنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی بہت جگہ وضاحت فرمائی ہے کہ اپنے گناہوں کی ہمیشہ بخشش مانگتے رہنا چاہئے۔آپ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ انسان کو جو روشنی عطا ہوتی ہے وہ عارضی ہوتی ہے۔یعنی کوئی بھی دینی روحانی روشنی عطا ہوتی ہے تو وہ عارضی ہوتی ہے۔اسے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنے کے لئے استغفار کی ضرورت ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ انبیاء جو استغفار کرتے ہیں اس کی بھی یہی وجہ ہوتی ہے کہ وہ ان باتوں سے آگاہ ہوتے ہیں اور ان کو خطرہ لگارہتا ہے کہ نور کی جو چادر ہمیں عطا کی گئی ہے ایسا نہ ہو کہ وہ چھن جاوے۔فرمایا کہ استغفار کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ موجودہ نور جو خدا تعالیٰ سے حاصل ہوا ہے وہ محفوظ رہے اور زیادہ اور ملے۔فرمایا کہ اس کی تحصیل کے لئے اسے حاصل کرنے کے لئے پنجگانہ نماز بھی ہے۔مغفرت کو حاصل کرنے کے لئے ، اس نور کو حاصل کرنے کے لئے نماز بھی اسی کا حصہ ہے۔کیونکہ نماز میں بھی انسان گناہوں سے تو بہ کرتا ہے۔معافی مانگتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی بخشش مانگتا ہے۔فرمایا تا کہ ہر روز دل کھول کھول کر خدا تعالیٰ سے مانگ لیوے۔جسے بصیرت ہے وہ جانتا ہے کہ نماز ایک معراج ہے اور وہ نماز ہی کی تضرع اور ابتہال سے بھری ہوئی دعا ہے جس سے یہ امراض سے رہائی پاسکتا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحہ 124-125) دعا اور استغفار کی اہمیت: یعنی روحانی اور جسمانی ہر قسم کے امراض کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے۔اور دعاؤں میں استغفار کی ضرورت ہے اور نماز بھی اسی کا حصہ ہے۔پس جب ان آیات کے پڑھنے کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو صرف پڑھنے سے کچھ نہیں ہو گا بلکہ عملی حالت بھی بہتر کرنی ہو گی۔اپنی طرف توجہ رکھنی ہو گی کہ کس طرح ہم نے استغفار کرنی ہے۔کس طرح ہم نے اپنی نمازوں کی حفاظت کرنی ہے تا کہ پھر ہماری بھی حفاظت ہو۔آپ نے استغفار کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا کہ: "استغفار کے یہی معنی ہیں کہ ظاہر میں کوئی گناہ سرزد نہ ہو اور گناہوں کے کرنے والی قوت ظہور میں نہ آوے۔" یعنی وہ گناہ جس چیز سے سرزد ہو سکتے ہیں وہ موقع ہی پیدا نہ ہو اور وہ طاقت ہی پیدا نہ ہو۔فرمایا کہ " انبیاء کے استغفار کی بھی یہی حقیقت ہے کہ وہ ہوتے تو معصوم ہیں مگر وہ استغفار اس واسطے کرتے ہیں کہ تا آئندہ وہ قوت