خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 590
خطبات مسرور جلد 16 590 49 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07دسمبر 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 07 دسمبر 2018ء بمطابق 07 / فتح 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج جن صحابہ کا ذکر ہو گا ان میں پہلا نام حضرت عبید بن زید انصاری کا ہے۔ان کا تعلق قبیلہ بنو عجلان سے تھا اور غزوہ بدر اور اُحد میں انہوں نے شرکت کی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 448 عبید بن زید مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت معاذ بن رفاعہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں اپنے بھائی حضرت خلاد بن رافع کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لاغر سے اونٹ پر سوار ہو کر بدر کی طرف نکلا۔ہمارے ساتھ عبید بن زید بھی تھے۔یہاں تک کہ ہم برید مقام پر پہنچے جو روحاء کے مقام سے پیچھے ہے تو ہمارا اونٹ بیٹھ گیا۔پہلے بھی یہ کچھ واقعہ اس دوسرے صحابی کے واقعہ میں بیان ہو چکا ہے۔تو کہتے ہیں ہمارا اونٹ بیٹھ گیا۔میں نے دعا کی کہ اے اللہ تیری خاطر نذر مانتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ پہنچ جائیں تو ہم اس کو قربان کر دیں گے۔کہتے ہیں ہم اسی حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہمارے پاس سے ہوا۔آپ نے ہم سے پوچھا کہ تم دونوں کو کیا ہوا ہے ؟ ہم نے ساری بات بتائی۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس رکے۔آپ نے وضو فرمایا اور پس خوردہ پانی میں لعاب دہن ڈالا۔پھر آپ کے حکم سے ہم نے اونٹ کا منہ کھول دیا۔آپ نے اونٹ کے منہ میں کچھ پانی ڈالا پھر اس کے سر پر ، اس کی گردن پر، اس کے شانے پر، اس کی کوہان پر ، اس کی پیٹھ پر اور کچھ پانی اس کی دم پر ڈالا۔پھر آپ نے دعا کی کہ اے اللہ ! رافع اور خلاد کو اس پر سوار کر کے لے جا۔پھر یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تشریف لے گئے۔ہم بھی چلنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور چل پڑے یہاں تک کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منصف کے مقام کے شروع میں پالیا۔وہاں پہنچ گئے اور اُن سے مل گئے۔ہمارا اونٹ قافلے میں۔آگے تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیکھا تو مسکرا دیئے۔ہم چلتے رہے یہاں تک کہ بدر کے مقام پر پہنچ گئے اور بد ر سے واپسی پر بھی کہتے ہیں کہ جب ہم مصلی کے مقام پر پہنچے تو ہمارا اونٹ بیٹھ گیا اور پھر میرے بھائی نے اس کو ذبح کر دیا اور اس کا گوشت صدقہ کر دیا۔تو اس میں ان کے ساتھ حضرت عبید بن زید بھی شامل تھے۔(اسد الغابه جلد دوم صفحه 181 معاذ بن رفاعة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) امتاع الاسماع جلد اوّل صفحه 93 باب خبر العير الذى برك دار الكتب العلميه بيروت 1999ء) كتاب المغازى للواقدى جلد اول صفحه 39 بدر القتال مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2013ء)