خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 587 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 587

خطبات مسرور جلد 16 587 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2018 پھر یہ کہتی ہیں کہ تربیت کرنے میں والد صاحب کا یہ اصول تھا کہ زیادہ نصیحت نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے عمل سے عملی نمونہ دکھاتے تھے۔پھر کہتی ہیں کہ جب میری والدہ بیمار ہوئیں تو صبر کے ساتھ ان کی خدمت کیا کرتے تھے اور گھر کا کام بھی خود کرتے تھے۔رمضان کے دنوں میں سحری اور افطاری کی تیاری بھی خود کرتے تھے اور کبھی کسی سے نہیں کہتے تھے کہ میرے لئے فلاں کام کر دو۔اپنے کام ہاتھ سے کرنے کی عادت تھی۔ان کے بیٹے سعادت احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ہماری تربیت بہت صبر سے کرتے تھے لیکن نماز کے معاملے میں آپ بہت تاکید کرتے تھے۔بچپن میں جب نماز کا وقت ہوتا تو ہمیں مسجد میں جاکر نماز باجماعت ادا کرنے کی تلقین کرتے۔اگر میں مسجد میں نہیں ہوتا تو مجھے ڈھونڈتے اور پھر خود مسجد لے کے جاتے تھے۔کہتے ہیں ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کبھی نماز نہ چھوڑنا۔نماز کے ساتھ سنت بھی پڑھنا اور ہمیشہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہنا۔ان کی بیٹی عطیۃ العلیم کہتی ہیں کہ والد صاحب ہمیشہ سچ بولتے تھے اور اپنے بچوں سے کبھی جھوٹ نہیں بولتے تھے چاہے مذاق میں ہی کیوں نہ ہو۔تہجد کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ہمیشہ مسجد میں جاکر نماز باجماعت پڑھتے تھے۔بیماری کے علاوہ میں نے کبھی انہیں گھر میں فرض نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ان کی دوسری اہلیہ کہتی ہیں کہ انہوں نے ربوہ جانے سے پہلے مجھے اور بچوں کو کہا کہ میرا اہل، میرے گھر والے اور میرے وارث خلافت ہے اور میری زندگی اور موت جماعت کے لئے ہے۔اس سال جرمنی کے جلسہ سالانہ پر بھی آئے، بڑی خواہش سے آئے۔بچوں نے کہا بھی بیمار ہیں۔انہوں نے کہا میں نے خلیفہ وقت سے ملنا ہے۔اور آئے اور ملاقات بھی کی اور یہ ان کی آخری ملاقات تھی۔وہاں جرمنی میں مجھ سے ملے تھے۔یہ کہتی ہیں کہ بہترین خاوند تھے۔میں نے اطاعت کی اہمیت آپ سے ہی سیکھی ہے۔جماعت کے کاموں میں اپنی صحت اور طبیعت کی کبھی پر واہ نہیں کرتے تھے۔سیوطی عزیز صاحب کے داماد ز کی صاحب کہتے ہیں کہ 2005ء میں جب یہ خبر آئی کہ لوگ ہمارے مرکز پر حملہ کرنے والے ہیں تو ہم خدام کو حکم دیا گیا کہ مرکز کی حفاظت کے لئے آئیں۔کہتے ہیں میں بھی وہاں تھا۔سیوطی صاحب اس وقت رئیس التبلیغ تھے۔میں نے دیکھا کہ آپ کبھی نہیں ڈرتے تھے اور بہادری کے ساتھ آدھی آدھی رات کو خدام کے پاس جا جا کر ملتے تھے اور خدام کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔کہتے ہیں میں نے ان میں خلافت سے بے انتہا محبت دیکھی۔کہتے تھے کہ میں وقف زندگی ہوں اور جو بھی کرتا ہوں خلیفہ وقت کی منظوری سے اور ان کے کہنے پہ کرتا ہوں۔2017ء میں آپ کو سٹروک ہوا اور کچھ عرصہ واضح بات نہیں کر پاتے تھے لیکن اس کے باوجود کتابوں کا مطالعہ جاری رکھا اور ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ کسی طرح جامعہ میں جاکر بچوں کو پڑھاؤں۔احمد صاحب سیکر ٹری تربیت لکھتے ہیں کہ کسی سے اچھا مشورہ ملتا تو بڑی عزت کے ساتھ بے تکلفانہ شکریہ ادا کرتے تھے اور جب بھی کسی کام میں مشکل پیش آتی تو بڑے اخلاص سے مشورہ مانگتے تھے۔احمد نور صاحب مبلغ کہتے ہیں کہ ہمیشہ بڑی سادگی سے رہتے تھے لیکن بہت باوقار تھے۔باوجود بڑی عمر کے جماعت کے کام میں ہمیشہ چست تھے گویا کہ آپ جو ان ہی تھے۔کہتے ہیں ان کی ایک نصیحت جو ہمیشہ خاکسار کو یاد رہتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے