خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 586
خطبات مسرور جلد 16 586 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2018 کہ اپنے آقا کے ساتھ بے وفائی مت کرنا۔یہ ہے میری نصیحت۔ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ 1993ء میں امیر صاحب انڈونیشیا شریف احمد لوبس صاحب نے عالمی بیعت کے پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے مجھے فلپائن بھیجا اور یہ کہا کہ یہ حضور کا، حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کا حکم ہے تو کہتے ہیں کہ میں تو بہت کمزور ہوں، زبان بھی نہیں جانتا۔انہوں نے کہا کہ مجھے آپ پر پورا بھر وسہ ہے۔کہتے ہیں آپ کا یہی حکم ہے تو میں تیار ہوں۔چنانچہ میں جماعتی سنٹر سے چلا گیا اور وہاں پہنچنے کے لئے منیلا (Manila) اور زمبوانگا(Zamboanga) سٹی سے ہو کر جانا پڑتا تھا۔کہتے ہیں میں نے کھانا کھایا مجھے سخت ہیضہ کی تکلیف ہو گئی، پیٹ خراب ہو گیا۔بڑی کمزوری ہو گئی۔ایسی حالت میں میں نے دعا کی کہ اے اللہ ! اگر میں یہاں مر جاؤں تو یہاں تو کوئی مسلمان نہیں ہے جو میری نماز جنازہ پڑھائے گا۔کہتے ہیں رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک نرس یو نیفارم پہنے ہوئے میرے پاس آئی ہے اور میرے سر پر ہاتھ پھرتے ہوئے پھونکا۔اس وقت مجھے یہ محسوس ہوا کہ میرا جسم ٹھنڈا پڑ گیا ہے اور وہ ٹھنڈک میرے پیروں کی انگلیوں سے نکلی ہے۔کہتے ہیں صبح جب میں اٹھا تو بالکل ٹھیک تھا۔چنانچہ میں تاوی تاوی (Tawi-Tawi) کی طرف روانہ ہوا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے تین مہینے کے اندر وہاں 130 افراد بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔عبد الباسط صاحب امیر جماعت انڈونیشیا لکھتے ہیں کہ سیوطی عزیز صاحب کو بہنوئی اور مبلغ کے طور پر بہت قریب سے دیکھا اور اچھی طرح دیکھنے کا موقع ملا۔بڑی سادہ شخصیت کے مالک تھے۔عاجزی اور انکساری کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ہر حال میں صبر و تحمل کی مثال تھے۔دعا گو، تہجد گزار، اللہ تعالیٰ پر انتہائی توکل کرنے والے۔ان کو نظام خلافت اور خلفائے سلسلہ سے بڑا اخلاص اور والہانہ پیار اور محبت تھی۔جماعتی کاموں کو اپنے ذاتی کاموں پر ہمیشہ ترجیح دیتے تھے۔ایک کامیاب خادم سلسلہ تھے۔جو بھی ذمہ داری، کام اور عہدہ موصوف کے سپر د کیا گیا بڑے اخلاص اور وفا کے ساتھ نبھاتے۔خواہ وہ مبلغ کے طور پر ہو یا جامعہ کے استاد کے طور پر یا پر نسپل کے طور پر یار ئیس التبلیغ کے طور پر ایک واقف زندگی کے لئے ایک اعلیٰ نمونہ تھے اور مثال تھے۔معصوم صاحب جو انڈونیشیا جامعہ کے نائب پر نسپل ہیں کہتے ہیں کہ سیوطی صاحب جامعہ میں درجہ خامسہ، رابعہ اور ثالثہ کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھاتے تھے۔درجہ مبشر میں کلام پڑھاتے تھے اور پڑھانے کے لئے انہوں نے کتاب عرفان الہی کا انڈو نیشین زبان میں ترجمہ کیا تھا۔جب بیماری کی وجہ سے ان کی صحت کمزور ہو گئی اور چلنا پھرنا مشکل ہو گیا تو پھر آپ سے طلباء ان کے آفس میں آ کے پڑھا کرتے تھے۔اور ربوہ جانے سے پہلے بھی 8 / نومبر کو انہوں نے آخری کلاس لی۔ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ جامعہ کو اب شاہد تک بڑھا دیا گیا ہے اور خلیفتہ المسیح نے اسے منظور کیا ہے اس لئے تم لوگوں نے خلیفتہ المسیح کی خواہشات کو پورا کرنا ہے اور بڑی محنت کرنی ہے۔ان کی ایک بیٹی مرد یہ صاحبہ لکھتی ہیں کہ والد صاحب نے اپنی زندگی مکمل طور پر وقف کی تھی۔اپنی زندگی جماعت کے کاموں میں صرف کی یہاں تک کہ ہم سیر کے لئے بھی بہت ہی کم کہیں گئے۔لیکن ہم سمجھتے تھے کہ وقف زندگی کی یہی زندگی ہے ، یہی انہوں نے اپنے بچوں کو بتایا کہ وقف زندگی کا گل وقت جماعت کے لئے ہے۔