خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 588
خطبات مسرور جلد 16 588 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2018 کبھی منہ مت پھیر وہ اللہ تعالیٰ سے مانگو۔وہ اپنے بندے کی دعا کو کبھی رد نہیں کرتا۔کہتے ہیں جب شاہد کلاس کے لئے انٹر ویو ہوا تو آپ نے روتے ہوئے اور کانپتے ہوئے خاکسار کو یہ نصیحت کی کہ اس وقف کو کبھی مت چھوڑنا۔جو شخص اس وقف کو چھوڑتا ہے وہ بہت ہی نقصان اٹھانے والوں میں سے ہے۔ایک بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ سیوطی صاحب کنداری (Kendari) تشریف لائے تو انہوں نے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک مربی کو نظام جماعت کی پابندی کروانے میں بیر ونی یا اندرونی مسائل کا سامنا ہو تو بے خوف آگے بڑھو اور یقین رکھو کہ خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت آپ کے شامل حال ہو گی۔لیکن اگر ذاتی خامیوں کی وجہ سے احباب جماعت کے اعتراض کا باعث بنیں تو اس کے لئے محاسبہ کرنا اور بہتری پیدا کرنا ضروری ہے۔جماعتی کاموں میں فکر کی کوئی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ پر توکل کرو اور نیک نیتی سے کام کرو لیکن ذاتی برائیاں اگر ہیں تو ضرور اپنا محاسبہ کرو۔خالد احمد خان صاحب مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ جامعہ میں تعلیم کے دوران سیوطی صاحب روحانی اور اخلاقی لحاظ سے ہمارے لئے ایک روشن مثال تھے۔آپ نماز باجماعت کا بہت اہتمام کیا کرتے تھے۔ہمیشہ وقت پر بلکہ بعض اوقات اس سے پہلے ہی نماز با جماعت کے لئے مسجد میں بیٹھے ہوتے تھے اور آخری ایام تک باوجو د علالت کے نماز میں ہمیشہ آگے رہے۔پھر مبلغ سلسلہ ہاشم صاحب لکھتے ہیں کہ جامعہ میں سیوطی عزیز صاحب سے علم الکلام پڑھنے کی سعادت ملی۔ان کی عادت تھی کہ پڑھانے کے دوران طلباء سے سوال وجواب کرتے تھے اور طلباء کی جانب سے جوابات کو بہت سراہتے تھے۔ایک دفعہ انہوں نے ہم سے سوال کیا کہ جماعت احمدیہ کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل کیا ہے۔کہتے ہیں ہم نے ایک ایک کر کے قرآن کریم کی آیات اور احادیث کے حوالے دے کر اس سوال کا جواب دیا۔انہوں نے ہمارے جوابات سن کر کہا کہ صداقت کی سب سے بڑی دلیل جو ہے وہ میں ہی ہوں یعنی ہر احمدی کو اپنے آپ کو صداقت کی دلیل سمجھنا چاہئے۔پھر انہوں نے کہا کہ آپ لوگ اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ ہم میں سے ہر ایک اس جماعت کی سچائی کا ثبوت ہو۔یہ ان کا تربیت کا انداز تھا کہ اگر آپ مکمل طور پر احمدیت یعنی حقیقی اسلام پر عمل کریں گے تو آپ اس سلسلہ کی سچائی کی سب سے بڑی دلیل بنیں گے۔یہان کا تربیت کا انداز تھا۔خطبات بڑے غور سے سنتے تھے۔پھر میرے خطبات جو سنتے تھے ان خطبات پر وہ طلباء سے پوائنٹس ڈسکس کرتے تھے، یقینی بناتے تھے کہ انہوں نے نوٹس لئے ہیں اور ہمیشہ یہ دیکھتے تھے کہ خلیفہ وقت کے پیغام کو سمجھا بھی ہے کہ نہیں اور ہمیشہ خلافت کی اطاعت کے بارے میں تلقین کرتے رہے۔شمسوری محمود صاحب مبلغ لکھتے ہیں کہ سیوطی صاحب ایک کامیاب واقف زندگی تھے۔ایک دفعہ انہوں نے خاکسار کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ زندگی وقف کرنے کے بعد غافل نہیں رہنا۔وقف سے الگ ہونا اپنے آپ کو جماعت سے نکالنے کے مترادف ہے۔اس بات کو ہمیشہ یادرکھنا۔پھر انہوں نے اس فقرے کو دہرایا جب آپ یہ کہہ رہے تھے تو ان کی آنکھیں سرخ تھیں، آنکھوں میں آنسو تھے۔یوسف اسماعیل صاحب مبلغ لکھتے ہیں کہ جب مجھے ریجنل مبلغ بنایا گیا تو میں آپ سے ملاقات کے لئے گیا،