خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 585
خطبات مسرور جلد 16 585 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2018 غرض کہتے ہیں کہ 13 فروری 1963ء کو 19 سال کی عمر میں میں نے اور میرے خاندان کے چالیس افراد نے مولاناز ینی دھلان کے ذریعہ سے بیعت کی۔پھر یہ مزید کہتے ہیں کہ 1963ء میں ربوہ سے وکیل التبشیر صاحب بانڈونگ (Bandung) آئے۔اس وقت میں بھی وہاں تھا۔جماعت کے پروگراموں کو دیکھ کر اور مبلغین سے مل کر مجھ پر جماعت کی سچائی مزید واضح طور پر ظاہر ہو گئی۔پھر جامعہ میں داخلے کے بارے میں بتاتے ہیں کہ 1963ء میں مولانا ابو بکر ایوب صاحب جو اُس وقت جنوبی سماٹرا کے مبلغ تھے نو مبائعین کی تربیت کے لئے ہمارے پاس لامپیونگ آئے۔اس دورہ کے بعد انہوں نے رئیس التبلیغ مولانا سید شاہ محمد جیلانی کو رپورٹ لکھی کہ لامپونگ میں بوگیس (Bugis) قوم کے چند افراد نے بیعت کی ہے اور اب تک اس قوم سے کوئی مبلغ نہیں ہے جبکہ جاوا( javanese) اور سند ا(Sundanese) قوم سے مبلغین ہیں۔اور انہوں نے لکھا کہ میں نے وہاں پر تین ایسے نوجوان دیکھے ہیں جو ربوہ میں پڑھنے کے لئے بھیجے جاسکتے ہیں۔کہتے ہیں کہ تین نوجوانوں میں سے ایک میں تھا۔تو کہتے ہیں ہم تینوں کو جامعہ ربوہ بھجوانے کی سفارش کی گئی۔ہمیں پاسپورٹ بنوانے کے لئے کہا گیا لیکن انڈو نیشیا کے اس وقت سیاسی حالات اچھے نہیں تھے، پاسپورٹ نہیں بن سکا۔پھر 1966ء میں رئیس التبلیغ مولانا امام الدین صاحب کے ساتھ پاکستانی ایمبیسی میں ویزا اپلائی کیا اور پندرہ منٹ کے اندر ویزامل گیا۔پھر کراچی پہنچے۔کہتے ہیں ایک رات میں کراچی ٹھہرا۔وہاں سے بذریعہ ٹرین ربوہ پہنچا اور پھر وہاں سے کہتے ہیں میں سٹیشن سے اترا پیدل جامعہ پہنچ گیا۔کہتے ہیں جامعہ کے بہت سے طلباء نے میرا استقبال کیا۔نیا ماحول تھا اور شروع شروع میں بڑی مشکل ہوئی لیکن پھر عادت پڑ گئی۔تین دن بعد کہتے ہیں مجھے جامعہ میں داخلہ مل گیا۔اساتذہ میں سے ایک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی حضرت ماسٹر عطا محمد صاحب تھے۔کہتے ہیں ربوہ میں قیام کے دوران میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کئی صحابہ سے ملاقات کی سعادت پائی اور ہمیشہ کسی صحابی سے ملنے کا موقع ڈھونڈھتا تھا اور ان سے باتیں کرتے ہوئے ان کے پیر دبایا کرتا تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث سے ایک خوشگوار ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث خلیفہ منتخب ہوئے تو ہم نے آپ سے پہلی بار ملاقات کی اور حضور سے گلے ملے۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہماری گال پر تھپکی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ انڈونیشیا سے آئے ہیں۔تم سب دور سے یہاں آئے ہو ( جتنے foreign بچے تھے ) اور تم میرے بچے ہو۔کہتے ہیں کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کا روحانی نور ہمیشہ ہمارے شامل حال رہا جس کی وجہ سے ہماری جتنی بھی مشکلات تھیں وہ سب آسان ہو گئیں۔اور خلیفۃ المسیح الثالث نے جو کہا تھا کہ اگر کوئی مشکل پیش آئے تو میرے پاس آنا، کہتے ہیں جب میں انڈو نیشیا واپس جانے لگا تو واپسی سے پہلے حضور سے ملاقات کرنے گیا تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے پوچھا کہ آپ کو کیا چاہئے۔میں نے کہا مجھے کچھ کتابیں چاہئیں۔میں ایک دفتر میں گیا تھا لیکن مجھے ملی نہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے اپنی قلم سے ایک نوٹ لکھا کہ سیوطی کو کتابیں دے دیں۔اس کے بعد کہتے ہیں مجھے روحانی خزائن کا مکمل سیٹ دیا گیا جو اب تک میرے پاس ہے اور جانے سے پہلے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے کافی دیر مجھے گلے لگایا اور میرے کان میں فرمایا