خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 584 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 584

خطبات مسرور جلد 16 584 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2018 ان چند صحابہ کا ذکر کرنے کے بعد اب میں ایک ہمارے انڈونیشیا کے ایک دیرینہ خادم، واقف زندگی، مبلغ سلسلہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کی گزشتہ دنوں جن کی وفات ہوئی۔ان کا نام سیوطی احمد عزیز صاحب تھا۔19 / نومبر کو ان کی وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔سیوطی صاحب دل کے شدید عارضے میں مبتلا تھے اور علاج کی غرض سے انہیں ربوہ بھجوایا گیا تھا جہاں طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ ربوہ میں ان کی ایک بڑی میجر (major) سرجری ہوئی اور کچھ دن بعد 19 / نومبر کو وہ صحت یاب نہیں ہو سکے اور وفات پاگئے۔پسماندگان میں ان کی اہلیہ ، چار بیٹے بیٹیاں اور دس پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں ہیں۔ان میں سے چھ بچے وقف کو میں شامل ہیں۔سیوطی عزیز احمد صاحب کی پیدائش 17 / اگست 1944ء کو بونے (Bone) جنوبی سولا ویسی ( South Sulawesi) میں ہوئی۔انہوں نے جامعہ ربوہ میں ستمبر 1966ء سے لے کر اکتوبر 1971ء تک تعلیم حاصل کی۔اپریل 1972ء کو بطور مرکزی مبلغ انڈونیشیا میں ان کی تقرری ہوئی۔پھر 1985ء میں میدان عمل میں ہی ان کی کار کر دگی اور کام دیکھ کر ان کو شاہد کی ڈگری بھی ملی۔سن 2000ء میں انہیں حج بیت اللہ کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔1972ء سے 1979ء سات سال تک جنوبی سماٹرا (South Sumatra)، لامپونگ (Lampung)، جامبی (Jambi) اور بینکولو (Bengkulu) میں بطور مبلغ خدمت سر انجام دی۔1979ء سے 1981ء تک معلمین کلاس میں بطور استاد خدمت کی توفیق پائی۔1981ء میں جماعت پوروو کیر تو (Purwokerto) میں بطور مبلغ تقر ر ہوا۔پھر 82ء میں معلمین و مبلغین کلاس میں بطور نائب ڈائریکٹر مامور ہوئے۔82 ء سے 92 ء تک جامعہ احمدیہ انڈونیشیا کے پر نسپل رہے۔اس دوران انہیں 1985ء میں شاہد کی ڈگری دی گئی۔1992ء سے 2016ء میں سال تک رئیس التبلیغ رہے۔2016ء سے لے کر وفات تک بطور پرنسپل جامعہ احمدیہ انڈو نیشیا میں خدمت کی توفیق پائی۔1973ء میں ان کی شادی مبلغ سلسلہ عبد الواحد صاحب سماٹری کی بیٹی عفیفہ صاحبہ سے ہوئی جو کہ مولانا عبد الباسط صاحب امیر جماعت انڈو نیشیا کی بڑی بہن تھیں۔ان سے سیوطی صاحب کے چار بچے مرد یہ خالد ، حارث عبد الباری، سعادت احمد اور الیتہ عطیۃ العلیم ہیں۔عفیفہ صاحبہ کی 2009ء میں وفات ہو گئی تھی۔اس کے بعد سیوطی صاحب نے ارینہ داری بنتی صاحبہ سے شادی کی۔ان سے کوئی اولاد نہیں ہے۔انہوں نے اپنے خاندان میں احمدیت کے نفوذ کے بارے میں ایک دفعہ ایم ٹی اے کو انٹر ویو دیا تھا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ میری اور میرے خاندان کی بیعت کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ میرے دادا نے یہ وصیت کی تھی کہ آخری زمانے میں امام مہدی آئے گا۔اور جب وہ آئے تو تم سب اس کو قبول کر لینا۔اس وصیت کو پورا کرنے کے لئے ہمارے خاندان نے دود فعہ ہجرت کی۔1959ء میں ہمارے خاندان نے لامپونگ کی طرف ہجرت کی اور 1963 ء میں ایک مبلغ مولانا زینی دھلان صاحب تبلیغ کے لئے لامپونگ آئے اور ہماری ملاقات ان سے ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ امام مہدی آگیا ہے۔کہتے ہیں پھر میں نے ان سے پوچھا کہ امام مہدی کے آنے کا کیا ثبوت ہے؟ انہوں نے ایک کتاب المسیح آخر الزمان کی صداقت ہمیں دی اور ہمیں اس کتاب کا مطالعہ کرنے کے لئے کہا۔جب میں نے اس کتاب کا مطالعہ کیا تو کہتے ہیں مجھے یقین ہو گیا کہ امام مہدی جو آنے والا تھا وہ آگیا اور وہ امام مہدی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہیں۔