خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 583
خطبات مسرور جلد 16 583 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2018 لوگ جنہوں نے انکار کیا ان کے لئے آگ کے کپڑے کاٹے جائیں گے۔ان کے سروں کے اوپر سے سخت گرم پانی انڈیلا جائے گا۔بہر حال اس مبارزت کی مزید تفصیل سنن ابو داؤد میں اس طرح بیان ہوئی ہے کہ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ عقبہ بن ربیعہ اور اس کے پیچھے اس کا بیٹا اور بھائی بھی نکلے اور پکار کر کہا کہ کون ہمارے مقابلے کے لئے آتا ہے؟ تو انصار کے کئی نوجوانوں نے اس کا جواب دیا۔عتبہ نے پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے بتادیا کہ ہم انصار ہیں۔عتبہ نے کہا کہ ہمیں تم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ہم تو صرف اپنے چچا کے بیٹوں سے جنگ کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے حمزہ ! اٹھو۔اے علی ! کھڑے ہو۔اے عبیدہ بن حارث ! آگے بڑھو۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنتے ہی حضرت حمزہ عتبہ کی طرف بڑھے اور میں شیبہ کی طرف بڑھا اور عبیدہ بن حارث اور ولید کے درمیان جھڑپ ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے کو سخت زخمی کیا۔پھر ہم ولید کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کو مار ڈالا اور عبیدہ کو ہم میدان جنگ سے اٹھا کے لے آئے۔(سنن ابو داؤد كتاب الجهاد باب فى المبارزة حديث 2665) مبارزت کے دوران عتبہ نے حضرت عبیدہ بن حارث کی پنڈلی پر کاری ضرب لگائی تھی جس سے ان کی پنڈلی کٹ گئی تھی۔پھر آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھوایا اور جنگ بدر ختم ہونے کے بعد مقام صفرا، جو بدر کے نزدیک ایک مقام ہے وہاں آپ کا انتقال ہو گیا اور وہیں ان کو دفن کر دیا گیا۔(المستحرك على الصحيحين جلد 3 صفحه 208207 کتاب معرفة الصحابه من مناقب عبیدہ بن الحارث حدیث 4862 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء ( لغات الحدیث کتاب ”ص، صفحہ 67 مطبوعہ میر محمد کتب خانہ آرام باغ کراچی) ایک روایت کے مطابق جب عبیدہ کی پنڈلی کٹ چکی تھی اور اس سے گودابہہ رہا تھا۔تب صحابہ حضرت عبیدہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! کیا میں شہید نہیں ہوں ؟ جنگ میں زخمی ہوئے تھے۔اُس وقت فوری طور پر شہید نہیں ہوئے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں نہیں، تم شہید ہو۔ایک روایت کے مطابق جب حضرت عبیدہ بن حارث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زانوں پر ان کا سر رکھا پھر حضرت عبیدہ نے کہا کاش کہ ابو طالب آج زندہ ہوتے تو جان لیتے کہ جو وہ اکثر کہا کرتے تھے اس کا ان سے زیادہ میں حق دار ہوں۔اور وہ یہ کہا کرتے تھے کہ: وَنُسْلِمُهُ حَتَّى نُصْرَعَ حَوْلَهُ وَتَذْهَلَ عَنْ أَبْنَائِ نَا وَالْحَلَائِلِ کہ یہ جھوٹ ہے کہ ہم محمد کو تمہارے سپرد کر دیں گے۔ایسا تبھی ممکن ہے کہ جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد سے پچھاڑ دیئے جائیں اور ہم اپنے بیوی بچوں سے بھی غافل ہو جائیں۔یہ جذبات تھے ان لوگوں کے۔شہادت کے وقت حضرت عبیدہ بن حارث کی عمر 63 سال تھی۔(المستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحه 208 کتاب معرفة الصحابه من مناقب عبیدہ بن الحارث حدیث 4863 مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) (اسد الغابه جلد 3 صفحه 547 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء)