خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 582
خطبات مسرور جلد 16 582 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2018 الحارث مطلبی کی امارت میں ساٹھ شتر سوار مہاجرین کا ایک دستہ روانہ فرمایا۔اس مہم کی غرض بھی قریش مکہ کے حملوں کی پیش بندی تھی۔" غرض بیان کر دی ہے کہ قریش مکہ کے حملوں کی پیش بندی تھی۔" چنانچہ جب عبیدہ بن الحارث اور ان کے ساتھی کچھ مسافت طے کر کے ثنیۃ المرہ کے پاس پہنچے تونا گاہ کیا دیکھتے ہیں کہ قریش کے دوسو مسلح نوجوان عکرمہ بن ابو جہل کی کمان میں ڈیرہ ڈالے پڑے ہیں۔فریقین ایک دوسرے کے سامنے ہوئے اور ایک دوسرے کے مقابلہ میں کچھ تیر اندازی بھی ہوئی لیکن پھر مشرکین کا گروہ یہ خوف کھا کر کہ مسلمانوں کے پیچھے کچھ کمک مخفی ہو گی۔" کچھ اور ہو سکتا ہے، لوگ آ رہے ہوں ، کوئی لشکر ہو۔" ان کے مقابلہ سے پیچھے ہٹ گیا اور مسلمانوں نے ان کا پیچھا نہیں کیا۔البتہ مشرکین کے لشکر میں سے دو شخص مقداد بن عمرو اور عقبہ بن غزوان عکرمہ بن ابو جہل کی کمان سے خود بخود بھاگ کر مسلمانوں کے ساتھ آملے اور لکھا ہے کہ وہ اسی غرض سے قریش کے ساتھ نکلے تھے کہ موقعہ پاکر مسلمانوں میں آملیں کیونکہ وہ دل سے مسلمان تھے مگر بوجہ اپنی کمزوری کے قریش سے ڈرتے ہوئے ہجرت نہیں کر سکتے تھے اور ممکن ہے کہ اسی واقعہ نے قریش کو بد دل کر دیا ہو اور انہوں نے اسے بد فال سمجھ کر پیچھے ہٹ جانے کا فیصلہ کر لیا ہو۔تاریخ میں یہ مذکور نہیں ہے کہ قریش کا یہ لشکر جو یقینا کوئی تجارتی قافلہ نہیں تھا۔" تجارت کی آڑ میں یہ لوگ باقاعدہ لشکر بنا کر نکلے تھے ، مسلح تھے۔" اور جس کے متعلق ابن اسحاق نے جمع عظیم " یعنی ایک بڑا لشکر " کے الفاظ استعمال کئے ہیں کسی خاص ارادہ سے اس طرف آیا تھا، لیکن یہ یقینی ہے کہ ان کی نیت بخیر نہیں تھی۔"نیک نیت سے بہر حال وہ نہیں آئے تھے، حملہ کرنے آئے تھے اور اس لئے مسلمانوں نے بھی تیر اندازی کی۔اور یقیناً اس سے یہ لگتا ہے کہ پہلی تیراندازی بھی کافروں کی طرف سے ہوئی تھی۔" اور یہ خدا کا فضل تھا کہ مسلمانوں کو چوکس پا کر اور اپنے آدمیوں میں سے بعض کو مسلمانوں کی طرف جاتا دیکھ کر ان کو ہمت نہیں ہوئی اور وہ واپس لوٹ گئے اور صحابہ کو اس مہم کا یہ عملی فائدہ ہو گیا کہ دو مسلمان روحیں قریش کے ظلم سے نجات پاگئیں۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 328-329) آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غزوہ بدر کے موقع پر مسلمانوں کی طرف سے ولید بن عتبہ سے مبارزت کی۔احادیث میں آتا ہے کہ قرآن کریم کی ایک آیت بھی اس واقعہ کے متعلق اتری ہے۔چنانچہ حضرت علی سے روایت ہے کہ آیت هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ۔(الحج: 20) ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی تھی جنہوں نے بدر والے دن مبارزت کی یعنی حضرت حمزہ بن عبد المطلب، حضرت علی بن طالب اور حضرت عبیدہ بن حارث اور عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔(المستدرك على الصحيحين جلد 2صفحه 419 كتاب التفسير تفسير سورة الحج حديث 3456 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ دو جھگڑالو ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔پوری آیت اس طرح پہ ہے کہ : هذنِ خَصْمَنِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِنْ نَارٍ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ (الحج:20) یہ دو جھگڑالو ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔پس وہ