خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 581
خطبات مسرور جلد 16 581 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2018 میں روانہ فرمایا تھا اور جس کا عکرمہ بن ابو جہل کے ایک گروہ سے سامنا ہو گیا تھا اس میں مکہ کے دو کمزور مسلمان جو قریش کے ساتھ ملے ملائے آگئے تھے، قریش کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آملے تھے چنانچہ روایت آتی ہے کہ۔۔۔اس مہم میں جب مسلمانوں کی پارٹی لشکر قریش کے سامنے آئی تو دو شخص مقداد بن عمرو اور عتبہ بن غزوان جو بنو زہرہ اور بنو نوفل کے حلیف تھے مشرکین میں سے بھاگ کر مسلمانوں میں آملے اور یہ دونوں شخص مسلمان تھے اور صرف کفار کی آڑلے کر مسلمانوں میں آملنے کے لئے نکلے تھے۔پس ان پارٹیوں کے بھجوانے میں ایک غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بھی تھی کہ تا ایسے لوگوں کو ظالم قریش سے چھٹکارا پانے اور مسلمانوں میں آملنے کا موقعہ ملتار ہے۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 324) ہجرت کے آٹھ مہینے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبیدہ بن حارث کو ساٹھ یا اسی سواروں کے ساتھ روانہ کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبیدہ بن حارث کے لئے ایک سفید رنگ کا پر چم باندھا جسے حضرت مسطح بن اثاثہ نے اٹھایا۔اس سریہ کا مقصد یہ تھا یعنی کہ جو بھیجا گیا تھا لشکر یا سواروں کا ایک گروپ، کہ قریش کے ایک تجارتی قافلے کو راہ میں روک لیا جائے۔قریش کے قافلے کا امیر ابوسفیان تھا۔بعض کے مطابق عکرمہ بن ابو جہل اور بعض کے مطابق بگرز بن حفص تھا۔اس قافلے میں دو سو آدمی تھے یعنی کافروں کے قافلے میں جو تجارتی مال لے کر جارہے تھے۔صحابہ کی اس جماعت نے رابغ وادی پر اس قافلے کو جالیا۔اس مقام کو وڈان بھی کہا جاتا ہے۔دونوں فریقوں کے درمیان تیر اندازی کے علاوہ کوئی مقابلہ نہ ہوا اور لڑائی کے لئے باقاعدہ صف بندی نہ ہوئی۔وہ صحابی جنہوں نے مسلمانوں کی طرف سے پہلا تیر چلایا وہ حضرت سعد بن ابی وقاص تھے اور یہ وہ پہلا تیر تھا جو اسلام کی طرف سے چلایا گیا۔اس موقع پر حضرت مقداد بن اسود اور حضرت عیینہ بن غزوان ( ابن ھشام اور تاریخ طبری میں عتبہ بن غزوان بھی ہے ) لکھا ہے مشرکوں کی جماعت سے نکل کر مسلمانوں سے آملے کیونکہ ان دونوں نے اسلام قبول کیا ہوا تھا اور وہ مسلمانوں کی طرف جانا چاہتے تھے۔حضرت عبیدہ بن حارث کی سرکردگی میں یہ اسلام کا دوسراسر یہ تھا۔تیر اندازی کے بعد دونوں فریق پیچھے ہٹ گئے کیونکہ مشرکین پر مسلمانوں کا اس قدر رعب پڑا کہ انہوں نے سمجھا کہ مسلمانوں کا بہت بڑا لشکر ہے اور ان کو مدد پہنچ رہی ہے لہذا وہ لوگ خوفزدہ ہو کر پسپا ہو گئے اور مسلمانوں نے بھی ان کا پیچھا نہیں کیا۔(السيرة الحلبية جلد 3 صفحه 215-216 سريه عبيدة بن الحارث مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء)،(سیرت ابن هشام جلد اول صفحه 592 سرية عبيدة بن الحارث مطبوعه مصطفی البابی مصر 1955ء)، (تاریخ الطبری جلد 2 صفحه 12 سنة 1ه مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1987ء) گئے تو تھے لیکن یہ نہیں کہ کوئی پیچھے گئے ہوں اور باقاعدہ جنگ کی ہو۔دونوں طرف سے حملہ ہوا۔اُنہوں نے بھی حملہ کیا انہوں نے بھی تیر چلائے اُنہوں نے بھی تیر چلائے اور آخر جب وہ کفار پیچھے ہٹ گئے تو مسلمان واپس آگئے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت کی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ : "غزوہ و دان سے واپس آنے پر ماہ ربیع الاول کے شروع میں آپ نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار عبیدہ بن