خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 50
خطبات مسرور جلد 16 50 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 فروری 2018 مقام انتہائی مبالغہ سے حمد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے اور تم آسمانوں اور زمینوں میں کوئی قابل تعریف صفات نہیں پاؤ گے جو تمہیں میری ذات میں نہ مل سکیں۔اور اگر تم میری قابل حمد صفات کو شمار کرنا چاہو تو تم ہر گز انہیں نہیں گن سکو گے۔اگر چہ تم کتنا ہی جان توڑ کر سوچو اور اپنے کام میں مستغرق ہونے والوں کی طرح ان صفات کے بارے میں کتنی ہی تکلیف اٹھاؤ۔خوب سوچو! کیا تمہیں کوئی ایسی حمد نظر آتی ہے جو میری ذات میں نہ پائی جاتی ہو ؟ کیا تمہیں ایسے کمال کا سراغ ملتا ہے جو مجھ سے اور میری بارگاہ سے بعید ہو ؟ اور اگر تم ایسا گمان کرتے ہو تو تم نے مجھے پہچانا ہی نہیں اور تم اندھوں میں سے ہو۔پس ہر حمد اللہ تعالیٰ ہی کو زیبا ہے۔فرمایا بلکہ یقیناً میں اللہ تعالیٰ " اپنی ستودہ صفات اور اپنے کمالات سے پہچانا جاتا ہوں اور میری موسلا دھار بارش کا پتہ میری برکات کے بادلوں سے ہوتا ہے۔پس جن لوگوں نے مجھے تمام صفات کا ملہ اور تمام کمالات کا جامع یقین کیا اور انہوں نے جہاں جو کمال بھی دیکھا اور اپنے خیال کی انتہائی پرواز تک انہیں جو جلال بھی نظر آیا انہوں نے اسے میری طرف ہی نسبت دی اور ہر عظمت جو اُن کی عقلوں اور نظروں میں نمایاں ہوئی اور ہر قدرت جو اُن کے افکار کے آئینہ میں انہیں دکھائی دی انہوں نے اسے میری طرف ہی منسوب کیا۔پس یہ ایسے لوگ ہیں جو میری معرفت کی راہوں پر گامزن ہیں۔حق ان کے ساتھ ہے اور وہ کامیاب ہونے والے ہیں۔فرمایا کہ پس اللہ تعالیٰ تمہیں عافیت سے رکھے۔اٹھو ! خدائے ذوالجلال کی صفات کی تلاش میں لگ جاؤ اور دانشمندوں اور غور و فکر کرنے والوں کی طرح ان میں سوچ و بچار اور امعان نظر سے کام لو۔یعنی گہری نظر سے کام لو۔کیونکہ حمد کی صفت کا ادراک ہونے سے ہی باقی صفات کا بھی ادراک ہوتا ہے یا ہو۔فرمایا کہ اچھی طرح دیکھ بھال کرو اور کمال کے ہر پہلو پر گہری نظر ڈالو اور اس عالم کے ظاہر میں اور اس و سکتا ہے۔کے باطن میں اسے اس طرح تلاش کرو جیسے ایک حریص انسان بڑی رغبت سے اپنی خواہشات کی تلاش میں لگارہتا ہے۔" اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جاننے کے لئے، اس کی صفات کو جاننے کے لئے، اس کی حمد کرنے کے لئے ، راستے تلاش کرنے کے لئے بڑی کوشش کرو۔ایک حریص انسان کی طرح کوشش کرو۔فرمایا کہ پس جب تم اس کے کمالِ تام کو پہنچ جاؤ اور اس کی خوشبو پالو تو گویا تم نے اسی کو پالیا اور یہ ایسا راز ہے جو صرف ہدایت کے طالبوں پر ہی کھلتا ہے۔پس یہ تمہارا رب اور تمہارا آقا ہے جو خود کامل ہے اور تمام صفات کا ملہ اور محامد کا جامع ہے۔(ماخوذ از کرامات الصادقین مترجم صفحه 135 تا 137 مطبوعہ نظارت اشاعت ربوہ) ساری حمد ، ساری تعریفیں یا تعریف کے قابل چیزیں اسی میں جمع ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے صاحب حمد ہونے کا یہ ادراک ہے جو ہمیں حاصل ہونا چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کی باقی صفات کو بھی ہم پہچان سکیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ مجید ہے۔صاحب مجد ہے۔بزرگی والا ہے۔اللہ تعالیٰ کی بزرگی وہ بزرگی نہیں ہے جو ہم انسانوں کے بارے میں کہہ دیتے ہیں کہ بڑا بزرگ ہے یا بڑی عمر کے لوگوں کو لوگ کہہ دیتے ہیں کہ بزرگ ہو گئے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے لئے اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ بہت ہی قابل تعریف اور بلند شان والا ہے جس تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔وہ جس کے فیض کی کوئی انتہا نہیں ہے۔جو دیتا ہے اور دیتا چلا جاتا ہے، کبھی نہیں تھکتا۔پس آیت پڑھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے