خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 580
خطبات مسرور جلد 16 580 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2018 سے فیضیاب ہونے کا موقع ملا لیکن وہ بدر میں شامل نہ تھے۔ان میں سے حضرت حارث جنگ یمامہ میں شہید ہوئے اور حضرت ابوکلاب اور حضرت جابر بن ابی صعصعہ نے غزوہ موتہ میں جام شہادت نوش کیا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 392 قيس بن ابی صعصعة مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر حضرت عبیدہ بن حارث ایک صحابی تھے۔حضرت عبیدہ بن الحارث جو بنو مطلب میں سے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار تھے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 123-124) ان کا تعلق قبیلہ بنو مطلب سے تھا۔ان کی کنیت ابو حارث جبکہ بعض کے نزدیک ابو معاویہ تھی۔والدہ کا نام شخیلہ بنت خزاعی تھا۔حضرت عبیدہ عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس سال بڑے تھے۔یہ ابتدائی ایمان لانے والوں میں شامل تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دارِ ارقم میں داخل ہونے سے پہلے آپ ایمان لے آئے تھے۔حضرت ابوعبیدہ، حضرت ابو سلمہ بن عبد اللہ اسدی، حضرت عبد اللہ بن ارقم مخزومی اور حضرت عثمان بن مظعون ایک ہی وقت میں ایمان لائے تھے۔حضرت عبیدہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک خاص قدر و منزلت رکھتے تھے۔حضرت عبیدہ بن حارث نے ابتدا میں اسلام قبول کیا اور آپ بنو عبد مناف کے سرداروں میں سے تھے۔(اسد الغابه جلد 5 صفحه 547 عبیده بن الحارث مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء)،(الاصابه في تمييز الصحابه جلد 4 صفحه 353 عبيدة بن الحارث مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) حضرت عبیدہ بن حارث نے اپنے دو بھائیوں حضرت طفیل بن حارث اور حضرت حصین بن حارث کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کی اور ان کے ساتھ حضرت مسطح بن اثاثہ بھی تھے۔سفر سے پہلے طے پایا کہ یہ لوگ وادی ناج میں اکٹھے ہوں گے لیکن حضرت مسطح بن اثاثہ پیچھے رہ گئے کیونکہ ان کو سانپ نے ڈس لیا تھا۔اگلے دن ان کو حضرت مسطح کے ڈسے جانے کی اطلاع ملی لہذا یہ لوگ واپس گئے اور انہیں ساتھ لے کر مدینہ آگئے۔مدینہ میں یہ لوگ حضرت عبد الرحمن بن سلمہ کے ہاں ٹھہرے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 37 عبيدة بن الحارث مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبیدہ بن حارث اور حضرت عمیر بن الحمام کے درمیان مؤاخات قائم فرمائی۔حضرت عبیدہ بن الحارث اور حضرت عمیر بن الحمام دونوں غزوہ بدر میں شہید ہوئے۔(استیعاب جلد 3 صفحه 1214 عمير بن الحمام مطبوعه دار الجيل1992ء) ان کے دو بھائی حضرت طفیل بن حارث اور حضرت حصین بن حارث بھی غزوہ بدر میں آپ کے ساتھ شریک تھے۔(الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحه 38-39 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آکر کفار کے شر سے بچنے کے لئے اور مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لئے کچھ تدابیر اختیار فرمائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ سیاسی قابلیت اور جنگی دور بینی کی ایک بین دلیل ہے۔اسی کا ذکر کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس طرح تحریر کیا ہے کہ: " تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلا دستہ ہی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبیدہ بن الحارث کی سرداری