خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 579
خطبات مسرور جلد 16 579 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2018 تھے وہاں سے واپس کئے گئے۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ارشاد فرمایا کہ چاہ سُقیا سے پانی لائیں۔آپ نے اس کا پانی پیا پھر آپ نے سقیا کے گھروں کے پاس نماز ادا کی۔سقیا سے روانگی کے وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت قیس بن ابی صعصعہ کو مسلمانوں کی گنتی کرنے کا حکم دیا۔اس موقع پر ان کو پانی پر نگران بھی مقرر کیا گیا تھا۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بئر ابی عنبہ جو مسجد نبوی سے تقریباً ڈھائی کلو میٹر کے فاصلے پر تھی اس کے پاس قیام کیا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گنتی کرو کتنے ہیں تو حضرت قیس نے گنتی کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ان کی تعداد 313 ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خوش ہوئے اور فرمایا کہ طالوت کے ساتھیوں کی بھی اتنی ہی تعداد تھی۔سقیا کے متعلق یہ نوٹ لکھا ہے کہ مسجد نبوی سے اس کا فاصلہ دوکلو میٹر کے قریب تھا اور اس کا پرانا نام حُسیکہ تھا۔حضرت خلاد بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حُسَیکہ کا نام بدل کر سُقیار کھ دیا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں سُقیا کو خرید لوں لیکن مجھ سے پہلے ہی حضرت سعد بن ابی وقاص نے اسے دو اونٹوں کے عوض خرید لیا اور بعض کے مطابق سات اوقیہ یعنی دوسواتی در ہم کے عوض خریدا گیا۔جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اس کا سودا بہت ہی نفع مند ہے۔(السيرة النبوية على ضوء القرآن والسنة از محمد بن محمد بن سويلم جلد 2 صفحه 124 ـ از مكتبة الشاملة)، سبل الهدى والرشاد جلد 4 صفحه 23 ، 25 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1993ء)،(يوم الفرقان اسرار غزوۂ بدر از الدكتور مصطفى حسن البدوى صفحه 124 مطبوعه دار المنهاج بيروت 2015ء)، (امتاع الاسماع جلد 8 صفحه 341 دار الكتب العلميه بيروت 1999ء)،(كتاب المغازي للواقدى جلد اول صفحه 37-38 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2013ء) اسی طرح غزوہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساقہ کی کمان آپ کے سپرد فرمائی تھی۔ساقہ لشکر کا وہ دستہ ہوتا ہے جو پیچھے حفاظت کی غرض سے چلتا ہے۔ایک دفعہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں کتنی دیر میں قرآن کریم کا دور کیا کروں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پندرہ راتوں میں۔حضرت قیس نے عرض کیا کہ میں اپنے آپ میں اس سے زیادہ کی توفیق پاتا ہوں۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک جمعہ سے لے کر اگلے جمعہ تک کر لیا کرو۔انہوں نے عرض کیا کہ میں اپنے آپ میں اس سے بھی زیادہ کی توفیق پاتا ہوں۔پھر انہوں نے ایک لمبے عرصہ تک اسی طرح قرآن کریم کی تلاوت کی یہانتک کہ جب آپ بوڑھے ہو گئے اور اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنے لگے تو آپ نے پندرہ راتوں میں دور مکمل کرناشروع کر دیا۔تب یہ کہا کرتے تھے کہ کاش میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت کو قبول کر لیا ہوتا۔(اسد الغابه جلد 4 صفحه 408 قيس بن ابی صعصعة مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (تاج العروس زير ماده سوق) حضرت قیس کے دو بچے الفاء کہ اور ام حارث تھے۔ان دونوں کی والدہ امامہ بنت معاذ تھیں۔حضرت قیس کی نسل آگے نہ چل سکی۔حضرت قیس کے تین بھائی تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت