خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 578 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 578

خطبات مسرور جلد 16 578 48 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2018ء بمطابق 30/ نبوت 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج جن صحابہ کا ذکر کروں گا ان میں سے پہلے حضرت ثابت بن خالد انصاری ہیں۔یہ قبیلہ بنو مالک بن نجار میں سے تھے۔غزوہ بدر اور احد میں شامل ہوئے اور جنگ یمامہ میں بھی شامل ہوئے اور اسی جنگ میں یہ شہید ہوئے۔بعض کے نزدیک بئر معونہ کے واقعہ میں موقع پر شہید ہوئے۔(استیعاب جلد 1 صفحه 198 مطبوعه دار الجيل بيروت 1992ء) رض پھر حضرت عبد اللہ بن عرفطہ ہیں۔آپ حضرت جعفر بن ابی طالب کے ہمراہ ہجرت حبشہ میں شامل ہوئے تھے اور ایک روایت جو حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجاشی کی طرف بھیجا تھا اور ہم لوگ اسی کے قریب تھے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحه 201 حديث 4400 مسند عبد ا : الله بن مسعود مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998 ء) حضرت عبد اللہ بن عرفطہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔(استیعاب جلد 3 صفحه 949 عبد الله بن عرفطة مطبوعة دار الجيل بيروت 1992ء) پھر حضرت عقبہ بن عبد اللہ ہیں۔ان کی والدہ کا نام بُسرہ بنت زید تھا۔بیعت عقبہ اور غزوہ بدر اور احد میں یہ شریک ہوئے تھے۔استيعاب جلد 3 صفحه 1026 عتبه بن عبد الله مطبوعه دار الجيل بيروت 1992ء)،(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 430 عتبه بن عبد الله مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر حضرت قیس بن ابی صعصعہ ہیں۔یہ انصاری تھے۔حضرت قیس کے والد کا نام عمر و بن زید تھا لیکن وہ اپنی کنیت ابو صعصعہ سے مشہور تھے۔حضرت قیس کی والدہ کا نام شیبہ بنت عاصم تھا اور حضرت قیس ستر انصار کے ساتھ بیعت عقبہ میں شامل ہوئے تھے اور غزوہ بدر اور احد میں شامل ہونے کا بھی ان کو شرف حاصل ہوا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 392 قيس بن ابی صعصعة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) غزوہ بدر کے لئے روانہ ہوتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لشکر کے ساتھ مدینہ سے باہر بیوت الشقیا کے پاس قیام کیا اور کم عمر بچے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی کے شوق میں ساتھ چلے آئے